پاک بحریہ نے دشمن کا غرور پانی میں غرق کرکے سمندری محاذ پر بھی برتری ثابت کی، وزیرداخلہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ پاک بحریہ نے دشمن کا غرور پانی میں غرق کرکے سمندری محاذ پر بھی برتری ثابت کی۔
یوم بحریہ پر اپنے پیغام میں جانبازوں کو سلام پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہا کہ آج پاک بحریہ کے بہادر سپوتوں کی عظیم قربانیوں اور بے مثال کارناموں کو خراج تحسین پیش کرنے کا دن ہے۔ 8ستمبرکوسمندری سرحدوں کا دفاع کرکے پاک بحریہ نےتاریخ رقم کی۔
انہوں نے کہا کہ بحری محاذ پر جرأت و قربانی کا نیا باب رقم کرنے والے جانباز قوم کے ہیرو ہیں ۔ یہ دن بہادری، پیشہ ورانہ مہارت اور فرض شناسی کی تابندہ علامت ہے۔ 1965ء کی جنگ میں پاک بحریہ نے دشمن کے غرور کو پانی میں غرق کر کے سمندری محاذ پر بھی برتری ثابت کی۔
محسن نقوی نے کہا کہ جنگ ستمبر میں آپریشن ’’دوارکا‘‘ بحری تاریخ کا درخشندہ باب ہے ۔ پاک بحریہ کے جانبازوں نے چند لمحوں میں دشمن کی اہم ساحلی تنصیبات کو تباہ کر کے سمندری جنگ کا نقشہ بدل دیا اور کراچی پر حملے کا منصوبہ خاک میں ملایا ۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ آپریشن دوارکا کے بعد معرکہ حق میں بھی پاک بحریہ الرٹ رہی اوردشمن کراچی پر حملے کی جرات نہیں کر سکا۔ پاک بحریہ نے اپنی پیشہ ورانہ تیاریوں، تنظیم اور جذبہ سرفروشی سے دشمن کو حیران کر دیا۔
اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ یومِ بحریہ نہ صرف ایک تاریخی دن ہے، بلکہ ایک تسلسل ہے اُس عہد، اُس جذبے اور اُس یقین کا جو سمندر کی وسعتوں میں پروان چڑھا۔ آج پاک بحریہ جدید ٹیکنالوجی، میزائل سسٹمز اور خود انحصاری کے ساتھ ایک مضبوط اور مؤثر بحری قوت کے طور پر سامنے آ چکی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عالمی بحری مشقوں میں شمولیت، علاقائی میری ٹائم سکیورٹی میں قائدانہ کردار اور سفارتی سطح پر سرگرم شراکت پاک بحریہ کی قابل فخر پہچان بن چکی ہے۔ قوم کو سمندری محافظوں پر ناز ہے، جنہوں نے پیشہ ورانہ مہارت اور حکمت عملی سے بحری سرحدوں کو ناقابلِ تسخیر بنا دیا۔
محسن نقوی نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاک بحریہ8 ستمبر1965کے جذبے کو زندہ جاوید رکھنے کے لئے پر عزم ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاک بحریہ نے محسن نقوی کے سمندری نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔