Express News:
2026-07-24@13:41:36 GMT

شیرکی مونچھ کا بال

اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT

میاں بیوی کی روز لڑائی ہوتی تھی‘ میاں سارا دن کام کرتا تھا اور شام کو تھک ہار کر واپس آتا تھا‘ بیوی کے پاس سارے دن کا غصہ جمع ہوتا تھا‘ وہ اسے دیکھتے ہی نفرت کی پوری بالٹی اس پر الٹ دیتی تھی یوں چخ چخ لڑائی میں تبدیل ہوجاتی تھی اور نوبت لڑائی مار کٹائی تک آ جاتی تھی‘ یہ روز کا معمول تھا‘ بیوی تنگ آ گئی اور اس نے خاوند سے الگ ہونے کا فیصلہ کر لیا‘ وہ ابھی یہ سوچ ہی رہی تھی کہ اس کی ہمسائی نے اسے شہر کے ایک باباجی کے بارے میں بتایا‘ اس کا کہنا تھا باباجی کے پاس مؤکلات ہیں۔

 یہ اپنے مریدوں کو تعویز دیتے ہیں اورمؤکلات ان کے تمام بگڑے کام سنوار دیتے ہیں‘ تم طلاق سے پہلے باباجی کو ضرور ٹرائی کرو‘ یہ مشورہ خاتون کی سمجھ میں آگیا چناں چہ اس نے باباجی کا سہارا لینے کا فیصلہ کر لیا‘ باباجی شہر سے باہر رہتے تھے‘ خاتون ان کے پاس گئی اور گھٹنے چھو کر پوچھا‘ کیا آپ واقعی خاوندوں کو مسخر کرنے کے تعویز دیتے ہیں؟ باباجی نے سر ہلا کر جواب دیا‘ یہ بات درست ہے‘ خاتون نے پوچھا اگر میں یہ تعویز لے لوں تو پھر کیا ہوگا؟ باباجی نے جواب دیا‘ آپ کا خاوند مطیع ہو جائے گا۔

 آپ اسے کہو گی اٹھ جاؤ تو وہ اٹھ جائے گا‘ آپ کہو گی بیٹھ جاؤ تو وہ بیٹھ جائے گا‘ آپ اسے جو کھلاؤ گی وہ چپ چاپ کھا لے گا‘ آپ کے پاؤں بھی دبائے گا‘ آپ سے اونچی آواز میں بات نہیں کرے گا اور آپ جب بھی اس کی طرف دیکھو گی تو یہ ہنس کر جواب دے گا‘ میرے تعویز کے بعد پورے شہر میں آپ دونوں سے زیادہ سکھی جوڑی کوئی نہیں ہو گی‘ خاتون خوش ہو گئی اور اس نے ایک بار پھر باباجی کے گھٹنے چھو کر عرض کیا۔

 آپ پھر مجھے جلدی سے تعویز دے دیں‘ باباجی مسکرائے اور فرمایا‘ تعویز لکھنا اور دینا کوئی مسئلہ نہیں صرف ایک دقت ہے‘ آپ کو تعویز کے لیے شیر کی مونچھ کا بال لانا پڑے گا‘ وہ ہو گا تو تعویز تیار ہو گا ورنہ تعویز نہیں مل سکے گا‘ خاتون نے گڑگڑا کر عرض کیا ’’کیا اس کے بغیر یہ ممکن نہیں؟‘‘ بابا جی نے انکار میں سر ہلا کر جواب دے دیا ‘خاتون نے تھوڑی دیر سوچا اور پھر عرض کیا ’’باباجی یہ کوئی مسئلہ نہیں‘ میں عن قریب شیر کی مونچھ کا بال لے آؤں گی‘ آپ بس تعویز کی تیاری کریں‘‘ باباجی نے دعا کے ساتھ اسے رخصت کر دیا۔

خاتون چلی گئی اور اڑھائی ماہ بعد واپس لوٹی اور چھوٹی سی ڈبیا باباجی کے سامنے رکھ دی‘ باباجی نے ڈبیا کھولی تو وہ شیر کی مونچھوں کے بالوں سے بھری ہوئی تھی‘ باباجی کبھی ڈبیا کی طرف دیکھتے تھے اور کبھی خاتون کی طرف اور پھر حیرت سے سرگھماتے تھے‘ آخر میں انھوں نے خاتون سے پوچھا ’’تم یہ بال کہاں سے اور کیسے لے آئی؟‘‘خاتون نے ہنس کر جواب دیا‘ باباجی آپ کی شرط بہت کڑی اور مشکل تھی‘ میں شروع میں بہت پریشان رہی لیکن پھر مجھے طریقہ سمجھ آ گیا‘ میں نے قصائی کی دکان سے گوشت کا بڑا ٹکڑا لیا‘ اسے ڈنڈے پر باندھا اور چڑیا گھر چلی گئی‘ شیر کے پنجرے کے پاس گئی اور ڈنڈا پنجرے کے اندر کر دیا‘ شیر دور بیٹھا تھا‘ وہ اٹھا‘ ڈنڈے سے گوشت اتارا اور کھا گیا۔

 میں نے یہ عمل اگلے دن بھی دہرا دیا‘ شیر نے گوشت کھا لیا‘ میں اب ایک خاص وقت پر روزانہ گوشت لے کر جاتی تھی اور شیر کو کھلادیتی تھی‘ میں اس دوران ڈنڈے کا سائز چھوٹا کرتی رہی اور شیر میرے قریب آتا رہا یہاں تک کہ میں اسے ہاتھ سے گوشت کھلانے لگی‘ اگلی اسٹیج پر میں اسے گوشت کھلانے کے بعد اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے لگی‘‘ شیر نے اس پربھی کوئی اعتراض نہیں کیا‘ میں سر پر ہاتھ پھیرتے پھیرتے اس کی گردن اور کمر پر بھی ہاتھ پھیرنے لگی‘ شیر اس کا بھی عادی ہو گیا‘ دس پندرہ دن بعد میں نے اس کا پنجرہ کھولا اور اندر جا کر اسے گوشت کھلانے لگی‘ شیر نے مجھے کچھ نہیں کہا‘ میں اب چڑیا گھر جاتی تھی‘ شیر کے پنجرے میں داخل ہوتی تھی‘ اسے گوشت کھلاتی تھی اور پھر اس کے پورے جسم پر ہاتھ پھیرتی تھی یوں ہم ایک دوسرے کے دوست بن گئے۔

 وقت کے ساتھ ساتھ ہماری دوستی اتنی بڑھ گئی کہ میں شیر کے اوپر بیٹھ جاتی تھی اور وہ مجھے پنجرے میں چکر لگواتا رہتا تھا‘ میں نے اس دوران ایک دن اس کی مونچھ کا بال چٹکی میں پکڑا اور کھینچ لیا‘ شیر کو تھوڑی سی تکلیف ہوئی لیکن وہ برداشت کر گیا‘ آپ نے مجھے کیوں کہ یہ نہیں بتایا تھا آپ کو دائیں مونچھ کا بال چاہیے تھا یا بائیں مونچھ کا لہٰذا میں نے دونوں مونچھوں کے بال توڑ لیے‘ میرا کام ہو گیا لیکن میں نے پھر سوچا‘ آپ کے پاس میری جیسی بے شمار عورتیں آتی ہوں گی‘ یہ بے چاری یہ بال کہاں سے لائیں گی چناں چہ میں نے ایک ایک کر کے اس کی مونچھ کے سارے بال توڑ لیے اور شیر اب مونچھوں کے بغیر پنجرے میں گھوم رہا ہے‘ آپ یہ میری طرف سے تحفہ قبول کریں اور جس جس عورت کو بال کی ضرورت پڑے آپ اس ڈبی سے نکالیں اور اسے تعویز بنا کر دے دیا کریں‘ آپ کو اب کسی عورت کو شیر کے پاس بھجوانے کی ضرورت نہیں۔

 باباجی نے پوری کہانی سنی اور قہقہہ لگا کر بولے ’’بیٹا شیر کے یہ بال ہی تعویز ہیں‘ تمہیں اب مزید کسی کاغذ یا عبارت کی ضرورت نہیں‘ تمہارا کام ہو چکا ہے‘‘۔خاتون حیرت سے باباجی کی طرف دیکھنے لگی‘ باباجی نے فرمایا‘ تم نے صرف گوشت‘ تھوڑی سی توجہ اور تھوڑی سی محبت سے جنگل کے اس بادشاہ کو مطیع کر لیا جس سے تمام درندے بھی ڈرتے ہیں‘ تمہارے سامنے تمہارے بے چارے خاوند کی کیا حیثیت ہے؟ تم نے بس شیر جیسی اسپرٹ سے اپنے خاوند کا خیال رکھنا ہے‘ یہ شیر سے زیادہ تمہارا وفادار اور مطیع ہو جائے گا‘ خاتون حیرت سے بابا جی کی طرف دیکھتی رہی‘ باباجی نے پوچھا‘ تمہیں شیر کی مونچھیں گنجی کرنے میں کتنے دن لگے‘ خاتون نے جواب دیا ’’صرف اڑھائی ماہ‘‘ باباجی نے ہنس کر فرمایا تم ذرا سوچو تم نے صرف اڑھائی ماہ میں تھوڑی سی توجہ‘ محبت اور خدمت سے درندے کو دوست بنا لیا جب کہ تمہارا خاوند انسان ہے۔

 یہ تمہاری زبان بھی جانتا ہے‘ یہ تمہیں بھی اچھی طرح پہچانتا اور سمجھتا ہے‘ تم اسے کتنی آسانی سے اپنا گرویدہ بنا سکتی ہو‘ تم بس اپنا وہ آرٹ اس پر استعمال کرو جس سے تم شیر کی مونچھ تک پہنچ گئی تھی‘ باباجی کا کہنا تھا انسانی تعلقات کی عمارت ایک دوسرے کے احساس پر کھڑی ہوتی ہے اور احساس توجہ‘ محبت اور خدمت سے جنم لیتا ہے اور جہاں یہ تینوں چیزیں نہ ہوں وہاں تعلقات چلتے ہیں اور نہ خاندان اور تم سے یہی غلطی ہو رہی ہے‘ تمہاری زندگی میں صرف یہ تعویز مسنگ ہے‘ باباجی خاموش ہو گئے‘ خاتون نے تھوڑی دیر سوچا اور پھر عرض کیا ’’لیکن باباجی اگر کسی کے ساتھ آپ کا دل نہ لگ رہا ہو تو پھر‘‘ باباجی نے فرمایا’’ بیٹا یہ فیصلہ ٹرین چلنے سے پہلے کرنا چاہیے تھا اگر ٹرین ایک بار چل جائے اور آپ نے دو چار منزلیں طے کر لی ہوں تو پھر بلاوجہ کسی اجنبی اسٹیشن پر اترنے کی غلطی نہیں کرنی چاہیے۔

 اللہ تعالیٰ نے تمہیں بیٹی دے دی ہے‘ تم اگر اس اسٹیج پر دل کی سنو گی تو اس میں تمہارا نقصان ہی نقصان ہے‘ چلتی ہوئی ٹرین کو اب نہ روکو‘ منزل نہ بدلو‘ اسی منزل کو خوب صورت اور کمفرٹیبل بنا لو اور اگر اللہ کو کچھ اور منظور ہوا تو یہ راستے میں تمہارے لیے کوئی نہ کوئی نیا آپشن پیدا کر دے گا ورنہ دوسری صورت میں ٹرین کو چلنے دو‘ اسے نہ روکو‘ باباجی کا کہنا تھا جوڑے واقعی آسمانوں پر بنتے ہیں‘ ان میں ہماری کوئی کوتاہی یا چالاکی نہیں ہوتی‘ ہم بس انھیں قبول نہ کر کے اپنے لیے مسائل پیدا کر لیتے ہیں‘ قدرت کے فیصلے کو قبول کرو اورخاوند جیسے شیر کی مونچھ کے بال توڑنا شروع کرو ‘ زندگی جنت بن جائے گی۔

باباجی کا کہنا تھا خاندان میں وقت کے ساتھ ساتھ مرد کی اجارہ داری کم اور عورت کا اختیار بڑھتا جاتا ہے‘ خاوند کے گھر میں تم ہر دن مضبوط سے مضبوط ہوتی چلی جاؤ گی اور یہ کم زور سے کم زور ہوتا جائے گا‘ تم ان دنوں کا انتظار کرو‘ دوسرا تم نے جس طرح شیر کو اپنے کھانے پر لگا لیا تھا بالکل اسی طرح خاوند کو بھی اپنے ہاتھ کے ذائقے کا عادی بنا لو‘ تمہارا آدھا مسئلہ حل ہو جائے گا‘ عورت اور مرد کے درمیان محبت کھانے سے شروع ہوتی ہے جب تک درمیان میں کھانا اور عورت کے ہاتھ کا ذائقہ باقی رہتا ہے محبت بھی جاری اور ساری رہتی ہے‘ تم اپنے ہاتھ کو ذائقے سے محروم نہ کرو‘ دوسرا مرد سارا دن کا تھکا ہارا واپس آتا ہے۔

 باہر کی دنیا بہت سخت اور ظالم ہے‘ یہ اس سے بھاگ کر توجہ کے لیے گھر آتا ہے لیکن اگر اسے وہاں بھی توجہ نہ ملے تو پھر یہ بے چارہ کہاں جائے گا؟ آپ خاوند کو توجہ دو‘ اس کی بات سنو‘ اس کے ساتھ کوئی شکوہ نہ کرو‘ کوئی شکایت ہونٹوں پر نہ لے کر آؤ‘یہ بات پلے باندھ لو دنیا کے ہر جان دار کو محبت چاہیے ہوتی ہے‘ لوگ اس خدا کو بھی چھوڑ دیتے ہیں جس سے انھیں پیار نہیں ملتا‘ محبت اتنی طاقتور ہوتی ہے کہ تم نے اس سے شیر کو بھی اپنا غلام بنا لیا ‘ تم اگر اس محبت کا صرف دس فیصد خاوند کو دے دو تو یہ بے چارہ پوری زندگی غلام بن کر تمہاری خدمت کرتا رہے گا‘‘ باباجی خاموش ہو گئے‘ خاتون نے شیر کی مونچھ کے بالوں کی ڈبی اٹھائی‘ باباجی کو سلام کیا اور چپ چاپ گھر روانہ ہو گئی‘ وہ سارا راستہ شیر کی مونچھ کے بال گلی میں بکھیرتی جارہی تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کی مونچھ کا بال شیر کی مونچھ کی مونچھ کے کا کہنا تھا باباجی کا باباجی کے تھوڑی سی خاتون نے دیتے ہیں جاتی تھی جواب دیا سے گوشت عرض کیا اور پھر کے ساتھ ہوتی ہے کر جواب جائے گا گئی اور تھی اور شیر کو شیر کے کے پاس کے بال تو پھر کی طرف

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی؛ موٹر سائیکل سوار نوجوان کی خاتون سے نازیبا حرکت، ویڈیو سامنے آگئی
  • پاکستانی نژاد سعدیہ زاہدی عالمی ایئرلائنز تنظیم کی پہلی خاتون ڈائریکٹر جنرل مقرر
  • لاہور سے تعلق رکھنے والی سعدیہ زاہدی عالمی فضائی تنظیم کی پہلی خاتون ڈائریکٹر جنرل مقرر
  • کراچی: اورنگی ٹاؤن میں خاتون سے نازیبا حرکت کرنیوالے لڑکے کا صاف اور قابلِ شناخت چہرا سامنے آ گیا
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار