اسرائیل نے قطر میں فضائی حملہ کر کے سینئر رہنما خلیل الحیہ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق اسرائیلی میڈیا نے اعلیٰ اسرائیلی حکام کے حوالے سے بتایا کہ قطر میں حماس کی قیادت پر حملہ کیا گیا ہے، جن میں خلیل الحیہ اور جابرین شامل ہیں۔
اسرائیلی چینل 12 نے ایک اسرائیلی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قطر میں حماس کی قیادت پر حملے کی اجازت دی۔
حماس کے ایک ذرائع نے قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کو بتایا کہ حملے کا نشانہ حماس کی مذاکراتی ٹیم تھی۔
یہ حملہ اُس وقت ہوا جب حماس کے مذاکرات کار امریکا کی جانب سے پیش کی گئی تازہ ترین جنگ بندی کی تجویز پر غور کرنے کے لیے ملاقات کر رہے تھے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اب تک کسی شہادت یا نقصانات کے حوالے سے معلوم نہیں ہو سکا۔
قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ یہ مجرمانہ حملہ تمام بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے اور قطری شہریوں اور قطر میں مقیم افراد کی سلامتی و تحفظ کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔
ڈاکٹر ماجد الانصاری نے کہا کہ یہ حملہ ایک رہائشی عمارت پر کیا گیا، جہاں حماس کے سیاسی بیورو کے متعدد ارکان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مقیم ہیں۔
قبل ازیں، ’رائٹرز‘ نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا کہ منگل (9 ستمبر) کو دوحہ میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوس کے رپورٹر باراک راوِد نے اسرائیلی حکام کے حوالے سے بتایا کہ دوحہ میں ہونے والا دھماکہ حماس کے عہدیداران پر کیا گیا، ایک عینی شاہد کے مطابق دارالحکومت کے کتارا ڈسٹرکٹ پر دھواں اٹھتے دیکھا گیا۔
اسرائیلی آرمی ریڈیو نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے قطر میں حماس کے عہدیداران کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ڈپٹی پریس سیکریٹری اینا کیلی نے الجزیرہ کو بتایا کہ دوحہ میں اسرائیلی حملوں پر امریکی انتظامیہ کی جانب سے کوئی تبصرہ نہیں کیا جا رہا، وہ واضح طور پر اس صورتحال کو دیکھ رہے ہیں کہ یہ کیسے آگے بڑھتی ہے۔
اینا کیلی کے مطابق امریکی صدر غالبا سب سے پہلے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر اس پر تبصرہ کریں گے، اس کے علاوہ، ساڑھے 3 گھنٹے بعد ہماری ایک پریس بریفنگ ہے، جہاں وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ کو کئی سوالوں کے جوابات دینے کا موقع ملے گا۔
ڈپٹی پریس سیکریٹری نے مزید کہا کہ یہ بات کہ آیا امریکی کمانڈر اِن چیف نے قطر پر اس حملے کی منظوری دی تھی، جہاں امریکا کا فوجی اڈہ بھی موجود ہے، فی الحال قیاس آرائیوں پر مبنی ہے۔
ترجمان ایرانی وزیرِ خارجہ اسمٰعیل بقائی نے قطر پر اسرائیلی حملےکو مجرمانہ، نہایت خطرناک، بین الاقوامی قانون، قطر کی خودمختاری اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ فلسطین اور مغربی ایشیا میں صہیونی حکومت کے جرائم پر عالمی برادری کی خاموشی سب کے لیے خطرہ ہے۔
متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے صدر کے سفارتی مشیر نے کہا کہ ہم قطر کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس ’غدارانہ‘ اسرائیلی حملے کی پُر زور مذمت کرتے ہیں۔
خبر رساں ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق دوحہ کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی فوجی حملے اس بات کو اجاگر کرتے ہیں کہ خطے میں اسرائیل کی فوجی مہم کس قدر پھیل چکی ہے۔
گزشتہ ہفتوں کے دوران اسرائیل غزہ پر تو مسلسل بمباری کر ہی رہا ہے، ساتھ ہی باقاعدگی سے لبنان، شام اور یمن میں بھی حملے کیے گئے۔
8 ستمبر کو ایک مشتبہ اسرائیلی ڈرون نے تیونس میں لنگر انداز غزہ جانے والے امدادی جہاز کو بھی نشانہ بنایا۔

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ

آر بی آئی نے اپریل میں جاری اپنی فاریکس رپورٹ میں بتایا تھا کہ بیرون ملک رکھے گئے اسکے زیادہ تر سونے کے ذخائر بینک آف انگلینڈ اور بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کے پاس محفوظ ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کا اثر اب ہندوستان کی معیشت پر بھی نظر آنے لگا ہے۔ ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے زر مبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنائے رکھنے اور روپئے پر دباؤ کم کرنے کے لئے اپنے سونے کے ذخیرے کا کچھ حصہ فروخت کر دیا ہے۔ بلومبرگ اکنامکس کی ایک رپورٹ کے مطابق 22 مئی کو ختم ہوئے 2 ہفتے کے دوران آر بی آئی نے قریب 12 ارب (تقریباً 1.14 لاکھ کروڑ روپئے) قیمت کا سونا فروخت کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس دوران مرکزی بینک نے قریب 7.5 ارب ڈالر (713.23 ارب روپئے) کے غیر ملکی کرنسی اثاثے حاصل کئے ہیں۔

بتا دیں کہ ہندوستان دنیا کا تیسرا سب سے بڑا خام تیل درآمد کنندہ ملک ہے۔ ایسے میں مغربی ایشیا میں بڑھتے تنازع کے سبب تیل کی قیمتوں میں تیزی آنے سے بھارت پر اضافی اقتصادی دباؤ پڑ رہا ہے۔ تیل درآمد پر اقتصادی خرچ ہونے سے زر مبادلہ کے ذخائر اور روپئے دونوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ "بلومبرگ اکنامکس" کے سینیئر ہندوستانی ماہر اقتصادیات ابھیشیک گپتا نے بتایا کہ دستیاب اعداد و شمار سے اشارہ ملتا ہے کہ آر بی آئی کے سونے کے ذخائر میں کمی آئی ہے جبکہ سونے پر درآمد ڈیوٹی بڑھنے کی وجہ سے اس کی قیمت میں اضافہ ہونا چاہیئے تھا۔ اسی بنیاد پر اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ ہو سکتا ہے مرکزی بینک نے سونے کی فروخت کی ہو۔

اگر یہ اندازہ درست ثابت ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ آر بی آئی نے زر مبادلہ کے ذخائر کو مزید مضبوط اور آسانی سے استعمال کے قابل بنائے رکھنے کے لئے یہ قدم اٹھایا ہے۔ ایسا اس لئے بھی اہم مانا جا رہا ہے کیونکہ ایران بحران اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق رکاوٹوں کے باعث تیل کی سپلائی اور عالمی تجارت پر دباؤ بڑھا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آر بی آئی مستقبل میں بھی موقع ملنے پر زر مبادلہ کے ذخائر بڑھانے کی کوشش کر سکتا ہے، اگر ڈالر کمزور ہوتا ہے، غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوتا ہے یا خام تیل کی قیمتوں میں گراوٹ آتی ہے تو مرکزی بینک مزید زر مبادلہ کے ذخائر حاصل کر سکتا ہے۔

مارچ 2025ء کے آخر تک آر بی آئی کے پاس 880.52 میٹرک ٹن سونا تھا۔ اس میں سے تقریباً 77 فیصد سونا ہندوستان میں ہی رکھا گیا تھا جبکہ 6 ماہ پہلے یہ اندازہ 66 فیصد تھا۔ آر بی آئی نے اپریل میں جاری اپنی فاریکس رپورٹ میں بتایا تھا کہ بیرون ملک رکھے گئے اس کے زیادہ تر سونے کے ذخائر بینک آف انگلینڈ اور بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کے پاس محفوظ ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ حالیہ سالوں میں آر بی آئی نے سونے کے ذخائر کا بڑا حصہ ہندوستان واپس منگایا ہے۔ اس کے پیچھے ایک وجہ یہ بھی مانی جاتی ہے کہ روس-یوکرین جنگ کے بعد مغربی ممالک کے ذریعہ روس کے غیر ملکی اثاثے منجمد کئے جانے سے کئی ممالک کے مرکزی بینک غیر ممالک میں رکھے ذخیرے کے حوالے سے زیادہ الرٹ ہوگئے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ
  • جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
  • آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ: قشم جزیرے پر امریکی حملے، ایران کے کویت اور بحرین میں امریکی اہداف پر وار
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید