’افغانستان سے ہمارے بچوں کےخون سے ہولی کھیلنے طالبان اورافغانی آتے ہیں،اتنی محسن کشی کبھی نہیں ہوئی‘
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ہم نے افغانیوں کیلیے دو جنگیں لڑیں اپنی معیشت تباہ اور لاکھوں لوگ شہید کروائے مگر آج بھی افغان سرزمین سے ہمارے بچوں کے خون سے ہولی کھیلی جارہی ہے۔
سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر میجر عدنان کی شہادت پر اپنے بیان میں وزیر دفاع نے کہا کہ آج پاک فوج نے پھر اپنے ایک بہادر بیٹے کو وطن پہ قربان کیا۔
اُن کے مطابق شہید کی والدہ کا کہنا تھا میرے 10 بيٹے ھوتے تو وہ پاکستان کی ناموس قربان کردیتیں، میجر عدنان کی شہادت پر بہنیں اور اور بیوی دکھ میں ڈوبی تھیں ۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ’والد کو گلے لگایا تو وہ کہنے لگے میں مضبوط ہوں، میرا بیٹا میرا فخر ہے‘۔ وزیر دفاع نے بتایا کہ میجر عدنان برطانیہ کی رائل ملٹری اکیڈمی سینڈھرسٹ کے گریجویٹ تھے، کون لوگ ہیں یہ جن کا نصب العین وطنُ سے محبت اور شہادت ہے۔
انہوں نے لکھا کہ ایسے عظیم لوگوں کے پاس نہ اقتدار نہ دولت نہ شہرت، اللہ نے اس پاک دھرتی کو ان جیسوں کے طفیل اپنی پناہ میں رکھا ہوا ہے اور ہمیں ان کی شہادتوں کے صدقے ہی بھارت پر فتح دی ہے۔
خواجہ آصف نے لکھا کہ میجر عدنان کے ساتھ پیش آنے والے واقعے میں پانچ دہشت گردوں میں سے تین افغانی جبکہ دو کالعدم ٹی ٹی پی کے کارندے تھے۔
انہوں نے لکھا کہ ’ہم نے جن (افغانیوں) کے لئے دو طویل جنگیں لڑیں، اپنا امن اور اپنی معیشت تباہ کر لی لاکھوں شہید ہوگئے، اس کے باوجود 60/70 لاکھ افغان ہماری دھرتی پہ موجود ہماری پناہ میں روزی کما رہے ہیں۔‘
خواجہ آصف نے لکھا کہ بڑے بڑے ٹرانسپورٹر اور ارب پتی ٹھیکیدار افغانی ہیں اور افغان سر زمین سے ہمارے بچوں کے خون سے ہولی کھیلنے کیلیے طالبانُ دہشت گرد اور افغان شہری آتے ہیں، دنیا کی تاریخ ميں اتنی محسن کشی کبھی نہیں ہوئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نے لکھا کہ
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔