اسٹاک ایکسچینج میں خریداری کا رجحان، انڈیکس ایک مرتبہ پھر 157,000 پوائنٹس سے تجاوز کرگیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز بھی خریداری کا رجحان برقرار رہا، جہاں کاروبار کے ابتدائی اوقات میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں تقریباً 500 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
صبح 11 بجے کے قریب کے ایس ای 100 انڈیکس 157,050.17 پوائنٹس کی سطح پر موجود تھا، جو 486.65 پوائنٹس یا 0.31 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان برقرار، انڈیکس پہلی مرتبہ 1,57,000 پوائنٹس سے تجاوز کرگیا
اہم شعبوں میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی دیکھنے میں آئی، جن میں آٹو موبائل اسمبلرز، کمرشل بینکس، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیاں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیاں شامل ہیں۔
Market is up at midday ????
⏳ KSE 100 is positive by +564.
— Investify Pakistan (@investifypk) September 10, 2025
انڈیکس پر اثر انداز ہونے والے بڑے اسٹاکس مثلاً نیشنل بینک، ایم اے آر آئی، او جی ڈی سی، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، پی او ایل، پاکستان اسٹیٹ آئل، ایس این جی پی ایل، ایس ایس جی سی اور وافی مثبت انداز میں ٹریڈ کرتے نظر آئے۔
اس سے قبل، منگل کو بھی اسٹاک مارکیٹ مثبت اختتام پذیر ہوئی تھی جب کے ایس ای 100 انڈیکس 476.22 پوائنٹس یعنی 0.31 فیصد اضافے کے بعد 156,563.53 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
بین الاقوامی سطح پر، بدھ کے روز ایشیائی اسٹاکس میں وال اسٹریٹ کی تیزی کے اثرات دیکھنے کو ملے، جبکہ بانڈز کی قیمتوں میں کمی آئی۔
مزید پڑھیں:برآمدات میں 17 فیصد اضافہ خوش آئند، معیشت درست سمت میں گامزن ہے: وزیراعظم شہباز شریف
جس کی بنیاد ی وجہ سرمایہ کاروں کی جانب سے اس قیاس آرائی میں اضافہ تھا کہ امریکی لیبر مارکیٹ کی کمزوری کے باعث فیڈرل ریزرو آئندہ ہفتے کم از کم ایک چوتھائی پوائنٹ شرح سود میں کمی کرے گا۔
مارکیٹوں نے اس عدالتی فیصلے کو بھی نسبتاً پرسکون انداز میں لیا جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فی الحال فیڈرل ریزرو کی گورنر لیزا کک کو برطرف کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
توقع ہے کہ یہ معاملہ بالآخر امریکی سپریم کورٹ میں جائے گا۔ ماہرین کے مطابق یہ مقدمہ مرکزی بینک کی طویل عرصے سے قائم آزادی پر اثر انداز ہوسکتا ہے، اگرچہ فوری طور پر اس کا کوئی مارکیٹ پر اثر نہیں ہوا۔
مزید پڑھیں:
ایشیا میں جاپان کا نکی انڈیکس 0.3 فیصد بڑھا، جنوبی کوریا کا کوسپی 1.3 فیصد اور تائیوان کا بلیو چپ انڈیکس 1.46 فیصد بڑھ کر نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ ہانگ کانگ کا ہینگ سنگ 0.5 فیصد اور چین کے مین لینڈ بلو چپس 0.2 فیصد اوپر گئے۔
امریکا میں ایس اینڈ پی 500، نیسڈیک کمپوزٹ اور ڈاؤ جونز انڈیکس منگل کو تاریخ کی بلند ترین سطح پر بند ہوئے، بدھ کو ایس اینڈ پی 500 فیوچرز مزید 0.2 فیصد اوپر دکھائی دیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
100 انڈیکس آٹو موبائل او جی ڈی سی بینچ مارک پاکستان اسٹاک ایکسچینج پاکستان اسٹیٹ آئل پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ ڈونلڈ ٹرمپ فیڈرل ریزرو کمرشل بینکس کے ایس ای لیزا کُک نیشنل بینک وال اسٹریٹ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 100 انڈیکس آٹو موبائل او جی ڈی سی پاکستان اسٹاک ایکسچینج پاکستان اسٹیٹ ا ئل ڈونلڈ ٹرمپ فیڈرل ریزرو کے ایس ای لیزا ک ک وال اسٹریٹ
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس نفسیاتی حد سے اوپر پہنچی ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق جمعرات کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت میں 6 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر خطے میں فوجی کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث خریداری میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
رپورٹس کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملے ہیں۔ بحیرہ احمر اور باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل کی جاتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ذمہ دار سمجھتا ہے، کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف سخت فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں پیٹرول، ڈیزل، بجلی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عالمی مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔
ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر کشیدگی آبنائے ہرمز تک پھیل گئی، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔