ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے فروری اور مارچ میں انعقاد کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
کولمبو/نئی دہلی (اسپورٹس ڈیسک)مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 ممکنہ طور پر 7 فروری سے 8 مارچ تک بھارت اور سری لنکا میں منعقد ہوگا۔ آئی سی سی نے ابتدائی طور پر شیڈول کو حتمی شکل دے دی ہے اور شریک ممالک کو آگاہ کر دیا ہے۔
سری لنکا اس سے قبل 2012 میں جبکہ بھارت 2016 میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی میزبانی کر چکے ہیں۔ اس بار میگا ایونٹ دونوں ملکوں میں مشترکہ طور پر کھیلا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق مقابلے بھارت کے پانچ شہروں اور سری لنکا کے دو شہروں میں ہوں گے۔ فائنل احمدآباد میں کھیلا جائے گا، تاہم اگر پاکستان فائنل تک پہنچا تو فیصلہ کن میچ کولمبو منتقل کر دیا جائے گا۔
ایونٹ میں 20 ٹیمیں شرکت کریں گی، جن میں سے 15 کی شرکت یقینی ہے۔ میزبان بھارت اور سری لنکا کے علاوہ پاکستان، افغانستان، آسٹریلیا، بنگلا دیش، انگلینڈ، جنوبی افریقا، امریکا، ویسٹ انڈیز، نیوزی لینڈ، آئرلینڈ، کینیڈا، نیدرلینڈز اور اٹلی شامل ہیں۔
باقی پانچ ٹیموں کا انتخاب کوالیفائرز کے ذریعے ہوگا۔ ان میں سے تین ایشیا سے جبکہ دو ایسٹ ایشیا پیسیفک خطے سے آئیں گی۔
Post Views: 6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سری لنکا
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔