لاہور سے جدہ جانے والی پروازوں کی دو بار ہنگامی لینڈنگ، زائرین شدید پریشان
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
لاہور سے جدہ جانے والے عمرہ زائرین کو گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دو مرتبہ غیر معمولی حالات کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث ان کا سفر بار بار متاثر ہوا اور انتظامیہ کو دونوں طیارے گراؤنڈ کرنا پڑے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ پہلی پرواز پی اے 470، ایئربس اے 320، لاہور سے جدہ روانہ ہوئی لیکن کچھ ہی دیر بعد طیارے کے موسمی ریڈار میں اچانک فنی خرابی پیدا ہوگئی۔ صورتحال کے پیش نظر پائلٹ نے فوری فیصلہ کرتے ہوئے طیارے کو بحفاظت کراچی ایئرپورٹ پر اتار لیا۔
تمام مسافروں کو ہوٹل منتقل کیا گیا جبکہ انجینئرز کی جانچ کے بعد طیارے کو مزید پرواز کے لیے غیر موزوں قرار دے کر گراؤنڈ کردیا گیا۔
ایئرلائن نے زائرین کو سہولت فراہم کرنے کے لیے متبادل پرواز کا بندوبست کیا اور منگل کی رات تقریباً ساڑھے نو بجے دوبارہ جدہ روانہ کیا گیا۔ تاہم یہ پرواز بھی مشکلات کا شکار ہوگئی۔ ٹیک آف کے چند لمحوں بعد ہی جہاز سے ایک پرندہ ٹکرا گیا، جس پر پائلٹ نے ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ کیا اور حفاظتی اقدامات کے تحت طیارے کو واپس کراچی ایئرپورٹ پر اتارنے کا فیصلہ کیا۔
ترجمان کے مطابق دوسرا طیارہ بھی حفاظتی معائنے تک کے لیے گراؤنڈ کردیا گیا ہے، جس کے بعد عمرہ زائرین کو ایک بار پھر ایئرپورٹ لاؤنج منتقل کردیا گیا ہے۔ مسافروں کو تیسری پرواز کے ذریعے جلد از جلد جدہ بھیجنے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں تاکہ ان کی عبادت میں مزید تاخیر نہ ہو۔
دو مسلسل ہنگامی لینڈنگز نے زائرین کو سخت پریشانی میں مبتلا کردیا ہے، تاہم ایئرلائن حکام کا کہنا ہے کہ مسافروں کی حفاظت ان کی اولین ترجیح ہے اور کسی بھی صورت میں حفاظتی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ متاثرہ زائرین کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ انہیں متبادل پرواز کے ذریعے جلد ہی جدہ روانہ کردیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: زائرین کو
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔