ایپل کا آئی فون ایئر کس خصوصیت کا حامل ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے آئی فون 17 کے ساتھ کمپنی کی جانب سے بنایا گیا اب تک کا سب سے مہین آئی فون بھی متعارف کرا دیا۔
آئی فون ایئر کے نام جانی جانے والی یہ ڈیوائس صرف ایپل کی مہین ڈیوائس ہی نہیں بلکہ اس میں بہتر ڈسپلے اور مضبوط ڈیزائن جیسی خصوصیات شامل ہیں۔
یہ ڈیوائس صرف 5.6 ملی میٹر چوڑی ہے اور اس سبب اس میں گزشتہ ڈیوائسز کے برعکس کیمرا کے لیے جگہ نہیں ہے۔
واضح رہے ایپل نے کیلیفورنیا میں منگل کے روز منعقد ہونے والی لانچنگ تقریب میں اپنی فلیگ شپ ڈیوائس آئی فون 17 سمیت متعدد نئے پراڈکٹس متعارف کرائیں۔
کمپنی کے مطابق بیس ماڈل آئی فون 17 میں ایک روشن اور اسکریچز کی زیادہ مزاحمت کرنے والی اسکرین ہوگی۔
اس کے علاوہ ڈیوائس میں ایک نئی A19 پروسیسر چپ ہوگی، جو تھری نینو میٹر (3nm) چپ میکنگ ٹیکنالوجی کے ساتھ بنائی جائے گی اور اس میں ڈیوائس پر مصنوعی ذہانت کے فیچرز کے لیے بہتر صلاحیتیں ہیں۔
کمپنی نے ایونٹ میں اپنے ایئر پوڈز پرو وائرلیس ہیڈ فونز اور تازہ ترین اسمارٹ واچ میں بلڈ پریشر مانیٹر بھی متعارف کرایا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: آئی فون
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔