سروائیکل کینسر سے بچاؤ کی ویکسینیشن مہم 15 ستمبر سے شروع ہوگی
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
محکمہ صحت پنجاب نے اعلان کیا ہے کہ صوبے بھر میں ہیومن پیپیلوما وائرس (HPV) کے خلاف ویکسینیشن مہم 15 ستمبر سے شروع کی جائے گی۔
یہ مہم 9 سے 14 سال کی عمر کی بچیوں کو سروائیکل کینسر سے بچاؤ کے لیے ویکسین فراہم کرنے کے مقصد سے شروع کی جارہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خواتین میں بڑھتے سروائیکل کینسر کی وجوہات کیا ہیں؟
ترجمان کے مطابق ڈپٹی کمشنر گجرات نورالاین قریشی کی ہدایت پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) ڈاکٹر غمخار حسین شاہ اور ڈی ایچ او پریوینٹو سروسز ڈاکٹر سید محمد اعتزاز احمد کی نگرانی میں یہ مہم ضلع بھر میں شروع ہوگی۔
حکام نے والدین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی بچیوں کی بروقت ویکسینیشن یقینی بنائیں تاکہ ان کی صحت محفوظ رہے اور ان کا مستقبل بہتر بنایا جاسکے۔
یہ بھی پڑھیں: سروائیکل کینسر سے بچاؤ ممکن: ماہرین کا HPV ویکسین کو قومی پروگرام میں شامل کرنے کا مطالبہ
یہ اقدام حکومت کی جانب سے احتیاطی صحت عامہ کو فروغ دینے اور پاکستان میں سروائیکل کینسر کے خطرات کو کم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پاکستان پنجاب خواتین سروائیکل کینسر ویکسین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان خواتین سروائیکل کینسر ویکسین سروائیکل کینسر
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔