بالی ووڈ کی سنجیدہ موضوع پر کامیاب ترین مزاحیہ فلم "جولی ایل ایل بی" کے تھری سیکوئل کے ٹریلر نے مداحوں اور فلم بینوں کی بے تابی میں اضافہ کردیا۔

فلم کا آفیشل ٹریلر کانپور اور میرٹھ میں ایک منعقد کردہ ایک شاندار تقریب میں ریلیز کیا گیا جس نے وائرل ہوتے ہی سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی۔

اس فلم کے تیسرے سیکوئل کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں اکشے کمار اور ارشد وارثی ایک ساتھ کورٹ روم میں مد مقابل دکھائی دے رہے ہیں۔
 

ٹریلر کی ابتدا ایک معمولی مقدمے سے ہوتی ہے، مگر آہستہ آہستہ معاملہ سنگین اور دلچسپ رخ اختیار کر لیتا ہے۔

اکشے کمار ایک ہائی پروفائل وکیل کے روپ میں آتے ہیں، جن کا انداز پُراعتماد اور بولڈ ہے۔

دوسری جانب ارشد وارثی ہیں جو ہمیشہ کی طرح اپنے مزاحیہ اور دلکش اسلوب میں ایک غیر معروف اور "چھوٹے وکیل" کا کردار نبھاتے ہیں۔

دونوں کے درمیان مکالموں کی جاندار جھڑپیں ناظرین کو قہقہے لگانے پر مجبور کر دیتی ہیں۔

فلم کی کہانی کا محور "فارم ہاؤس رائٹس" یعنی زرعی زمین کے تنازعات اور عام آدمی کے مسائل پر گھومتا ہے جسے سماجی طنز اور عدالتی ڈرامے کو ہنسی مذاق کے تڑکے کے ساتھ پیش کیا گیا ہے تاکہ ناظرین کو ہنسانے کے ساتھ ساتھ سوچنے پر بھی مجبور کیا جا سکے۔

ٹریلر کی لانچنگ پر اکشے کمار نے مداحوں میں کانپور کی مشہور "ٹھگّو کے لڈو" تقسیم کیے اور نظم و ضبط قائم رکھنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

لانچنگ ایونٹ میں اکشے کمار "کنپوریا اسٹائل" میں گمچھا گلے میں ڈالے نظر آئے جب کہ ارشد وارثی مکمل وکیل کے روپ میں پہنچے۔

اسٹار جج کے طور پر شہرت رکھنے والے سوربھ شکلا بھی اپنی مخصوص انداز میں اسٹیج پر جلوہ گر ہوئے۔

اکشے کمار نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ جولی مشرا کے کردار میں واپس آنا میرے لیے ایک خاص سفر ہے۔ اصل مزہ تب آئے گا جب یہ جولی، ارشد کے جولی تیاگی سے عدالت میں ٹکرائے گا۔

ارشد وارثی نے اپنے کردار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جولی تیاگی میرا پہلا بڑا کردار تھا۔ اس بار جب یہ کردار واپس آیا ہے تو ایسا لگ رہا ہے جیسے پرانے دوست سے دوبارہ ملاقات ہو رہی ہو، لیکن اس بار اس دوست کا مقابلہ اکشے کے جولی مشرا سے ہے۔

جولی ایل ایل بی کے دونوں سیکوئل میں جج کا کردار یادگار بنانے والے سوربھ شکلا نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جج تریپاٹھی میرا سب سے زیادہ پسند کیا جانے والا کردار ہے، لیکن اب عدالت میں دو جولی ہوں گے، اس لیے ہنگامہ اور ہنسی دونوں دگنی ہو جائیں گے۔

سبھاش کپور کی ہدایت کاری میں بننے والی "جولی ایل ایل بی 3" میں ہما قریشی، امریتا راؤ، سیما بسواس اور انو کپور بھی اہم کرداروں میں شامل ہیں۔ فلم 19 ستمبر 2025 کو سینما گھروں میں ریلیز ہوگی۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: جولی ایل ایل بی ارشد وارثی اکشے کمار

پڑھیں:

ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟

ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔

اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔

لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔

گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟

مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔

مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔

لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیان

تازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔

عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔

پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیں

گزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے  تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔

اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔

واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقات

پاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

یورپی یونین کی غیر معمولی تائید

یکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔

اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ  طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔

اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔

’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکز

موجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔

امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین

متعلقہ مضامین

  • میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں