نیپال کی سابق چیف جسٹس سوشیلا کرکی عبوری حکومت سنبھالنے کیلئے تیار
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
کھٹمنڈو(انٹرنیشنل ڈیسک) نیپال کی سپریم کورٹ کی سابق چیف جسٹس سشیلا کرکی نے عبوری حکومت سنبھالنے پر آمادگی ظاہر کی ہے جب کہ فوج نے فسادات اور ہنگامہ آرائی پر قابو پالیا ہے۔
نیپالی حکومت نے گزشتہ ہفتے سوشل میڈیا کی بڑی ویب سائٹس کو بند کر دیا، جس سے نوجوانوں کے مظاہرے شروع ہو گئے جنہیں GenZe Revolution کا نام دیا گیا ہے۔ نیپال میں فسادات کے دوران تیس افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے اور کئی سرکاری عمارتوں کو آگ لگا دی گئی۔
احتجاجی تحریک کے رہنماؤں نے بدھ کو عسکری قیادت سے ملاقات کی جس میں مستقبل پر بات چیت کی گئی۔ انہوں نے ملک میں قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ کیا ہے اور عبوری حکومت کی قیادت کے لیے سابق چیف جسٹس سشیلا کرکی کا نام تجویز کیا ہے۔ کرکی نے بھی عبوری قیادت سنبھالنے پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کوٹ عبدالمالک: بیٹی‘ سابق بیوی پر تشدد‘ تیزاب پھینک دیا‘ دونوں جھلس گئیں
فیروزوالہ (نامہ نگار) شرقپور خورد کوٹ عبدالمالک میں ایک شخص وقاص احمد نے بیوٹی پارلر پر جا کر سابقہ بیوی مسرت بی بی اور جواں سال بیٹی ایمان فاطمہ کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد تیزاب پھینک دیا جس سے مسرت بی بی جسم پر تیزاب پڑنے سے بری طرح جھلس گئی جبکہ ایمان فاطمہ معمولی زخمی ہوئی۔ دریں اثناء ایس ایچ او کوٹ عبدالمالک نے بتایا ہے کہ ملزم وقاص احمد نشہ کا عادی ہے۔ وقوعہ کے وقت وقاص احمد اپنی بیٹی ایمان فاطمہ کو ملنے کی خاطر سابقہ بیوی مسرت بی بی کے بیوٹی پارلر پر آیا جہاں مسرت بی بی نے بیٹی کو ملانے سے انکار کر دیا۔ ملزم شیخوپورہ کے قریب قصبہ بھکھی میں رہ رہا ہے جس کو گرفتار کرنے کی خاطر اس کے تمام ممکنہ ٹھکانوں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔