پی ٹی آئی ارکان کے سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں سے بھی استعفے آنا شروع WhatsAppFacebookTwitter 0 11 September, 2025 سب نیوز


اسلام آباد:پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی ہدایت کے بعد پارٹی اراکین کی جانب سے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹوں سے مستعفی ہونے کے بعد سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں سے بھی استعفی دینا شروع ہوگئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی سینیٹرز نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں سے مستعفیٰ ہونے پر غور شروع کردیا ہے۔

سینیٹر دوست محمد اور ذیشان خانزادہ نے اپنی متعلقہ قائمہ کمیٹیوں سے استعفیٰ چیئرمین سینیٹ کو ارسال کردیا ہے۔

سینیٹر ذیشان خانزادہ کی جانب چیئرمین سینیٹ کو ارسال کیے گئے استعفے کے متن کے مطابق احتجاج کے طور پر متعلقہ 5 قائمہ کمیٹیوں کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے، یہ استعفیٰ بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پر دیا ۔

سینیٹر ذیشان خانزادہ نے بطور چیئرمین کمیٹی اوورسیز پاکستانی، ممبر سینیٹ کی خارجہ، فنانس اینڈ ریونیو، کامرس اور نجکاری کی کمیٹیوں سے استعفیٰ دیا۔

علاوہ ازیں، پی ٹی آئی کے سینیٹر دوست محمد نے بھی سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں سے استعفیٰ چیئرمین سینیٹ کو بھجوا دیا ہے۔

سینیٹر دوست محمد نے حکومتی یقین دہانیاں، انسانی حقوق، فوڈ سیکیورٹی، غربت مٹاؤ اور ریلوے کی قائمہ کمیٹیوں سے استعفیٰ دیا ہے۔

اس سے قبل، سینیٹر محسن عزیز نے بھی تمام قائمہ کمیٹیوں سے استعفی دیا تھا۔

یاد رہے کہ بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین جنید اکبر سمیت پی ٹی آئی کے 51 اراکینِ قومی اسمبلی پہلے ہی اپنا استعفیٰ اسپیکر قومی اسمبلی کو بھجواچکے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے تاحال ان استعفوں پر کوئی کارروائی نہیں کی جب کہ حکومت کی جانب سے اسپیکر کو سنی اتحاد کونسل کے اراکین کے استعفے منظور نہ کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرتیزاب پھینک کر اچھا نہیں کیا، ناکام عاشق تھا تو خود کو مار کر نام پیدا کر لیتا، جسٹس ہاشم کاکڑ تیزاب پھینک کر اچھا نہیں کیا، ناکام عاشق تھا تو خود کو مار کر نام پیدا کر لیتا، جسٹس ہاشم کاکڑ ایک سو نوے ملین پاؤنڈ کیس: عمران اور اہلیہ کی سزا معطلی کی درخواستیں سماعت کیلئے مقرر کرنے کا حکم بارش کے بعد کئی ’’برساتی مینڈک‘‘ نکل آئے جو افواہیں پھیلا رہے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ عمرقید کے ملزم کی اپیل پر سماعت: جج سپریم کورٹ کا مدعی مقدمہ سے دلچسپ مکالمہ، کمرہ عدالت میں قہقہے امریکی صدر ٹرمپ کے قریبی ساتھی چارلی کرک قاتلانہ حملے میں ہلاک نیتن یاہو نے قطر پر حملے کو پاکستان میں بن لادن کیخلاف امریکی آپریشن سے تشبیہ دے دی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں سے پی ٹی آئی

پڑھیں:

پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز

اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔

دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔

توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • چیئرمین سینیٹ سے اٹالین سفیر کی غیر رسمی ملاقات ،دونوںملکوں کے تعلقات مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ
  • امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
  • کوہستان آپریشن سکینڈل: نیب نے 6 ارب سے زائد اثاثے خیبر پی کے حکومت کے حوالے کر دیئے
  • ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو