ٹی 20 ایشیا کپ: ہانگ کانگ کی بنگلہ دیش کے خلاف بیٹنگ جاری
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
ایشیا کپ ٹی ٹوئنٹی 2025 کے تیسرے میچ ہانگ کانگ کی بنگلہ دیش کے خلاف بیٹنگ جاری ہے، بنگلہ دیش نے ہانگ کانگ کے خلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔
یہ میچ ابوظہبی کے زاید کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا جا رہا ہے۔
بنگلہ دیشی ٹیم کی قیادت وکٹ کیپر بلے باز لٹن داس کر رہے ہیں جبکہ ٹیم میں تنزید حسن، پرویز حسین ایمان، توحید ہردوئے، شمیم حسین، جاکر علی، ماہدے حسن، تنزیم حسن، رشاد حسین، تسکین احمد اور مستفیض الرحمٰن شامل ہیں۔
ہانگ کانگ کی قیادت یاسِم مرتضیٰ کر رہے ہیں۔ ٹیم میں وکٹ کیپر ذیشان علی، انشی راتھ، بابر حیات، نزاکت خان، کلہان چالو، کنچت شاہ، ایزاز خان، آیوش شکلا، عتیق اقبال اور احسن خان شامل ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بنگلہ دیش اور ہانگ کانگ کے درمیان اس سے قبل صرف ایک مرتبہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیلا گیا تھا۔ یہ میچ 2014 کے ورلڈ کپ کوالیفائرز میں ہوا تھا جس میں ہانگ کانگ نے بنگلہ دیش کو 108 رنز پر آؤٹ کرنے کے بعد 8 وکٹیں گنوا کر ہدف حاصل کر لیا تھا۔
فارم گائیڈ کے مطابق دونوں ٹیمیں مختلف صورتحال کے ساتھ اس میچ میں اتری ہیں۔ بنگلہ دیش نے اپنے پچھلے پانچ میچوں میں صرف ایک شکست کھائی ہے جبکہ ہانگ کانگ نے گزشتہ پانچ میں سے دو میچوں میں کامیابی حاصل کی ہے۔
ایشیا کپ 2025 میں یہ بنگلہ دیش کا پہلا میچ ہے، جبکہ ہانگ کانگ کو افتتاحی میچ میں افغانستان کے ہاتھوں 94 رنز کی بھاری شکست ہوئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news ایشیا کپ بنگلہ دیش بیٹنگ ٹی 20 فیلڈنگ کرکٹ ہانگ کانگ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایشیا کپ بنگلہ دیش بیٹنگ ٹی 20 فیلڈنگ کرکٹ ہانگ کانگ ہانگ کانگ بنگلہ دیش ایشیا کپ
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔