سلامتی کونسل کے تمام 15 ارکان کی اسرائیل کا نام لیے بغیر قطر پر حملوں کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT
نیویارک (نیوزڈیسک) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اسرائیل کا نام لیے بغیر قطر کے دارالحکومت دوحہ پر حالیہ اسرائیلی حملے کی مذمت کردی۔
پاکستان کے مطالبے پر بلائے گئے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کا مذمتی بیان برطانیہ اور فرانس نے تیار کیا اور یہ بیان تمام 15 اراکین، بشمول اسرائیل کے اتحادی امریکا کی منظوری سے جاری کیا گیا۔
بیان میں سلامتی کونسل نے قطر کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کی اورغزہ سے یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ بندی کو اولین ترجیح رکھنے پر زور دیا۔
واضح رہے کہ امریکا عام طور پر اقوام متحدہ میں اسرائیل کا تحفظ کرتا ہے لیکن اس بار سلامتی کونسل کے بیان کی حمایت سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس حملے پر ناراضگی ظاہر ہوئی ہے۔
اسرائیل نے عالمی امن کو نقصان پہنچایا: پاکستان
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے اسرائیلی حملہ یو این چارٹر اور قطر کی سلامتی کے خلاف قرار دیدیا، سلامتی کونسل اجلاس سے خطاب میں کہا کہ اسرائیل نے صرف قطر نہیں بلکہ عالمی امن کونقصان پہنچایا۔
اسرائیل نے منگل کے روز کیے گئے حملے میں حماس کی سیاسی قیادت کو نشانہ بنایا تھا، اس حملے میں سینئر حماس رہنما خلیل الحیا کے بیٹے، ان کے دفتر کے ڈائریکٹر سمیت 6 افراد شہید ہوئے تاہم اس حملے میں حماس کی قیادت محفوظ رہی۔
دوحہ پر اسرائیلی حملے کے بعد امریکا نے اس پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اقدام کو یکطرفہ قرار دیا تھا۔
اسرائیل نے سفارتکاری کی توہین کی: قطری وزیراعظم
قطر کے وزیراعظم محمد بن عبدالرحمان الثانی نے دوحہ پر اسرائیلی حملہ سفارتکاری کی توہین اور امن کوششوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش قرار دیدیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے دوحہ پر حملہ کرکے سفارتکاری کی توہین کی ہے اور اسرائیل حماس رہنماؤں پر حملہ کر کے غزہ میں جنگ ختم کرنے کی کوششوں کو ناکام بنانا چاہتا ہے۔
انہوں نے سلامتی کونسل کو یقین دہانی کرائی کہ ان کا ملک غزہ میں جنگ بندی کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ قطرکا ثالثی کا کردار عالمی سطح پر سراہاگیا، انہوں نے ساتھ ہی واضح کردیا کہ وہ خونریزی روکنے کے لیے اپنے انسانی اور سفارتی کردار کو بغیر کسی ہچکچاہٹ کے جاری رکھیں گے۔
اس سے قبل قطر کے وزیراعظم نے امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں کہا تھا کہ اسرائیلی حملے نے یرغمالیوں کی رہائی کی تمام امیدیں ختم کر دیں اور حماس پر اسرائیلی حملے سے یرغمالیوں کا مستقبل تاریک ہوگیا ہے۔
قطر پر حملہ افسوسناک مگر حماس کا پیچھا کرنا جائز ہدف ہے: امریکا
امریکا نے قطر پر اسرائیلی حملوں کی مضحکہ خیز انداز میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قطر پر حملہ افسوس ناک ہے لیکن حماس کا پیچھا کرنا جائز ہدف ہے۔
امریکا کی سفیر ڈوروتھی شیا نے اسرائیل کے حماس کے تعاقب میں کیے گئے حملوں کی حمایت کی اور حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ باقی ماندہ اسرائیلی یرغمالیوں کو فوری طور پر کو رہا اور غزہ جنگ بندی معاہدے کو قبول کرے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قطر پر اسرائیلی حملہ افسوسناک واقعہ ہے اور اس طرح کے اقدامات نہ امریکا کے اور نہ ہی اسرائیل کے مقاصد کو آگے بڑھاتے ہیں۔
امریکی سفیر نے یہ مؤقف بھی دہرایا کہ حماس کا پیچھا کرنا ایک جائز اور اہم ہدف ہے جس کی حمایت کرتے ہیں۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اسرائیلی حملے سلامتی کونسل پر اسرائیلی اسرائیل نے کی حمایت پر حملہ
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔