ٹرمپ کا خود کو نوبل انعام کیلئے حقدار کہنے پر نوبل کمیٹی کا مؤقف سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT
امریکی صدر ٹرمپ کا خود کو نوبل انعام کیلئے حقدار کہنے پر نوبل کمیٹی کا مؤقف سامنے آگیا ۔
نوبل کمیٹی کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا امن انعام حاصل کرنے کا دباؤ کسی صورت فیصلہ سازی پر اثرانداز نہیں ہوگا،ہر امیدوار کا جائزہ اس کی انفرادی صلاحیتوں اور خدمات کی بنیاد پر لیا جاتا ہے۔
ہمارے فیصلے مکمل طور پر آزادانہ اور غیر جانبدارانہ ہوتے ہیں،امن انعام کا اعلان 10 اکتوبر کو کیا جائے گا۔یاد رہے کہ پاکستان ، اسرائیل ، کمبوڈیا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبل انعام کے لیے نامزد کررکھا ہے ۔
امن کا نویل انعام اس شخص کو دیا جاتا ہے جس نے ملکوں کے درمیان رفاقت بڑھانے، مستقل فوجیں ختم یا کم کرنے، اور امن کے قیام اور فروغ کے لیے سب سے زیادہ یا بہترین کام کیا ہو۔
نویل اس انعامات کے سلسلے کا نام ہے جس میں کیمسٹری، فزکس، طب، ادب اور امن جیسے شعبوں میں ایوارڈز دیے جاتے ہیں، نوبل انعام ان لوگوں کو دیے جاتے ہیں جنھوں نے گذشتہ 12 ماہ کے دوران انسانیت کو عظیم فائدہ پہنچایا۔
تعلیمی ماہر، یونیورسٹی کے اساتذہ، سائنسدان، گذشتہ فاتحین اور دیگر لوگ اپنی طرف سے نامزدگیاں دائر کرتے ہیں۔ نوبل فاؤنڈیشن کے اصولوں کے تحت نامزد کیے گئے افراد کی فہرست اگلے 50 سال تک شائع نہیں کی جاسکتی۔ کوئی بھی خود کا نام نامزد نہیں کر سکتا۔
نوبل انعام جیتنے والوں کو لوریٹس (یعنی نوبل انعام یافتہ) کہا جاتا ہے۔ یہ قدیم یونان میں فاتحین کو ملنے والی پھولوں کی چادر کی علامت ہے۔
ہر انعام ایک سے زیادہ شخص جیت سکتا ہے لیکن ایک انعام تین سے زیادہ لوگوں کو نہیں مل سکتا۔ایسے بھی کچھ سال گزرے ہیں جب نوبل انعام کسی کو پیش نہیں کیا گیا۔ ان میں اکثر سال پہلی اور دوسری عالمی جنگ کے ہیں۔
نوبل فاؤنڈیشن کے اصولوں میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی بھی ایک شعبے میں انعام کا مستحق نہیں تو یہ کسی کو بھی نہیں دیا جائے گا۔ بلکہ انعام کی رقم اگلے سال کے لیے رکھ لی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
حکومت نے بازار اور دکانیں بند کرنے کے اوقاف کار(business hours) تبدیل کر دئیے ۔دکانوں اور کاروباری مراکز کے بند ہونے کے اوقات میں توسیع کا فیصلہ ۔
اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس کمیٹی نے جاری کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ لیا نئے اوقات کے مطابق دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رہیں گے۔
ریسٹورنٹس اور کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے ہونگے ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز ان اوقات سے مستثنیٰ ہوں گیشادی ہالز اور تقریبات کے مقامات رات 10 بجے تک ہی کھلے ہونگے۔
مزید پڑھیں:اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
فارمیسی، اسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ادارے مستثنیٰ ہونگے صوبائی حکومتیں وفاق کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے ان ہدایات پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنائیں، کمیٹی کی ہدایت