غزہ میں امدادی مراکز کی سیکیورٹی پر اسلام مخالف بائیکر گینگ تعینات
اشاعت کی تاریخ: 13th, September 2025 GMT
غزہ میں امریکی ادارے کی زیر نگرانی امدادی مراکز پر اسلام مخالف بائیکر گینگ کو سیکیورٹی پر مامور کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق امریکی و اسرائیلی حکومتوں کی حمایت یافتہ غزہ ہیومینیٹیریئن فاؤنڈیشن (GHF) کے مراکز کی حفاظت کے لیے امریکی کنٹریکٹرز نے سینیئر ارکان کو تعینات کر دیا ہے۔ اسلام مخالف بائیکر گینگ انفیڈلز ایم سی (Infidels MC) نے بھرتی کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی کمپنی یو جی سلوشنز (UG Solutions) نے اس گینگ کے 10 سے زائد ارکان کو سیکیورٹی پر تعینات کیا ہے جن میں سے کم از کم 7 سینئر عہدوں پر فائز ہیں اور امدادی مراکز کی نگرانی کر رہے ہیں۔ ان میں گروپ کا سربراہ جونی ’ٹیز‘ مَلفورڈ بھی شامل ہے جو یو جی سلوشنز میں ’کنٹری ٹیم لیڈر‘ کے طور پر خدمات انجام دے رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اسی نے اپنے گینگ کے دیگر ارکان کو بھی بھرتی کیا۔
ملفورڈ کے جسم پر ’1095‘ کا نمایاں ٹیٹو موجود ہے جو اس سال کی علامت ہے جب پوپ اربن دوم نے پہلی صلیبی جنگ شروع کی تھی۔
رپورٹ کے مطابق امریکی کنٹریکٹرز کے اس فیصلے پر انسانی حقوق کے اداروں اور مقامی تنظیموں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس طرح کے انتہاپسند عناصر کی تعیناتی امدادی سرگرمیوں کے بجائے مزید کشیدگی کو جنم دے سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
امریکی فوج کی جانب سے ایرانی جزیرے قشم پر کارروائی کے دعوے کے بعد ایران نے خطے میں موجود امریکی مفادات اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا اعلان کرتے ہوئے جوابی حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق امریکی افواج نے قشم جزیرے میں موجود ایک ایرانی فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کے ردعمل میں کی گئی۔
سینٹ کام کے مطابق امریکی اور اتحادی دفاعی نظام نے متعدد ایرانی میزائل اور ڈرون راستے میں ہی تباہ کر دیے۔
امریکی بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ایران کی جانب سے داغے گئے بعض بیلسٹک میزائل اپنے اہداف تک پہنچنے میں ناکام رہے۔
کویت کی جانب فائر کیے گئے دو میزائل راستے میں گر گئے جبکہ بحرین کی طرف بڑھنے والے تین میزائل امریکی اور بحرینی فورسز نے فضا میں ہی تباہ کر دیے۔
اسی دوران امریکی فوج نے ایک ایسے آئل ٹینکر کو بھی ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جو مبینہ طور پر ایرانی جزیرے خارگ کی جانب رواں تھا۔
امریکی حکام کے مطابق مذکورہ جہاز پر بوٹسوانا کا پرچم لہرا رہا تھا۔
مزید پڑھیںایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
دوسری طرف ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی کارروائی کا فوری جواب دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ قشم میں کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے بعد امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق جوابی کارروائی میں بحرین میں موجود امریکی ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر، بعض فضائی تنصیبات اور ہیلی کاپٹر مراکز کو ہدف بنایا گیا۔
پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں کا جواب دینا ناگزیر تھا اور خطے میں کسی بھی جارحیت کا بھرپور ردعمل دیا جائے گا۔
عرب میڈیا کے مطابق بحرین، کویت اور عراق میں سیکیورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے جبکہ بحرین کے مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بھی بجائے گئے۔
بحرینی وزارتِ داخلہ نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ادھر ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کے بعد پاسداران انقلاب نے ایک بحری جہاز پر میزائل حملہ کیا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی قیمت امریکا کو چکانا پڑے گی۔