یوٹیوبر رجب بٹ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری
اشاعت کی تاریخ: 13th, September 2025 GMT
لاہور کی سیشن عدالت نے معروف یوٹیوبر رجب بٹ کے خلاف مبینہ توہین مذہب سے متعلق مقدمہ درج کرنے کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج شفقت شہباز راجہ کی جانب سے جاری کردہ فیصلے میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کو قانون کے مطابق کارروائی کی ہدایت کی گئی ہے۔
یہ درخواست شہری شہزادہ عدنان کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ یوٹیوبر رجب بٹ نے اپنے بیانات میں توہین مذہب کا ارتکاب کیا ہے۔
درخواست گزار کے مطابق اس نے NCCIA کو باقاعدہ شکایت جمع کرائی، تاہم ادارے کی جانب سے کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ سائبر کرائم ایجنسی متعلقہ قوانین کے تحت درخواست کا جائزہ لے کر کارروائی کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
اسلام آباد:ہائیکورٹ نے جاری اشتہار کے مطابق اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) میں نئی بھرتیوں پر عملدرآمد سے روک دیا۔
عدالت نے حکم دیا کہ اسامیوں کی بھرتی کے لیے جاری کیے گئے اشتہار پر مرکزی درخواست کے حتمی فیصلے تک عملدرآمد معطل رہے گا۔ جسٹس محمد اعظم خان نے یہ احکامات جاری کرتے ہوئے متفرق درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات بھی دور کر دیے۔
حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت درخواست کے میرٹ پر دیے بغیر متفرق درخواست کو منظور کررہی ہے۔ عدالت نے اشتہار پر عملدرآمد روکنے کی متفرق درخواست منظور کرتے ہوئے اسے نمٹا دیا، جبکہ مرکزی کیس کی سماعت کے لیے 22 اگست کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔
واضح رہے کہ اے این ایف کے کانسٹیبل محمد شفیق خان نے اپنے وکیل محمد علی رضا کے ذریعے اسامیوں کے اشتہار کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔ درخواست میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ قانون اور ڈائریکٹر جنرل اے این ایف کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ گزشتہ 10 سال سے اے این ایف میں ایک ہی عہدے پر خدمات انجام دے رہا ہے، لیکن اسے کوئی ترقی نہیں دی گئی۔ اس نے بتایا کہ محکمہ کے 665 کانسٹیبلز کی سینیارٹی فہرست میں اس کا نمبر 232 ہے، اس کے باوجود محکمانہ ترقی کا حق نظر انداز کیا گیا۔
درخواست میں کہا گیا کہ ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کا اجلاس بلائے بغیر نئی براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار جاری کرنا غیر قانونی ہے۔ مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اے این ایف کے سروس رولز کے تحت پہلے سے موجود ملازمین کی ترقی کا حق ختم کرکے براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار دیا گیا ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ دیگر اداروں سے ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران کی غیر قانونی انٹری روک کر سویلین ملازمین کا سروس اسٹرکچر بحال کیا جائے۔ عدالت اے این ایف کا جاری کردہ حالیہ بھرتیوں کا اشتہار غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کرے اور تمام خالی اسامیوں پر محکمانہ ترقیوں کے لیے ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی فوری تشکیل دینے کا حکم جاری کرے۔