فیکٹری مالک نے پاک بھارت میچ سمیت ایشیا کپ کے 700 ٹکٹس محنت کشوں میں مفت بانٹ دیے
اشاعت کی تاریخ: 13th, September 2025 GMT
دبئی میں ایشیا کپ کے سب سے بڑے مقابلے پاکستان اور بھارت کے میچ کی ٹکٹس کی مانگ عروج پر پہنچ گئی ہے، لیکن ایسے موقع پر محنت کشوں کے لیے خوش خبری آگئی۔ دبئی کے بزنس مین اور سماجی شخصیت انیس ساجن نے اپنی کمپنی میں کام کرنے والے جنوبی ایشیائی محنت کشوں کو 700 مفت ٹکٹس فراہم کیے ہیں۔
انیس ساجن کا کہنا تھا کہ کرکٹ ان کا بھی جنون ہے مگر وہ چاہتے ہیں کہ دبئی میں کام کرنے والے محنت کش بھی اس خوشی اور جوش کا حصہ بنیں۔ اسی مقصد کے لیے انہوں نے نہ صرف ٹکٹس تحفے میں دیے بلکہ ان کے لیے فری پک اینڈ ڈراپ سروس کا بھی انتظام کیا۔
ٹکٹس پاکستانی، بھارتی، بنگلا دیشی، سری لنکن، نیپالی اور افغانی محنت کشوں میں تقسیم کیے گئے۔ سب سے زیادہ دلچسپی پاک بھارت ٹاکرے میں ظاہر کی گئی، اس لیے قرعہ اندازی کے ذریعے خوش نصیب فینز کا انتخاب کیا گیا۔
واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت کا بڑا میچ 14 ستمبر کو دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا جبکہ ایشیا کپ کے کئی دیگر میچز اور فائنل بھی اسی اسٹیڈیم میں ہوں گے۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔