پنجاب اور سندھ میں سیلابی صورتحال سنگین، لاکھوں افراد متاثر، فصلیں تباہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, September 2025 GMT
لاہور، ملتان، رحیم یار خان، راجن پور (نیوز ڈیسک) پنجاب میں سیلابی صورتحال برقرار ہے جس کے باعث شجاع آباد، رحیم یار خان، احمد پور شرقیہ، راجن پور اور وہاڑی کے مزید سیکڑوں دیہات زیرِ آب آگئے۔ فیڈرل فلڈ کمیشن کے مطابق دریائے چناب میں پنجند بیراج کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے جبکہ اگلے 24 سے 48 گھنٹوں میں گڈو بیراج میں بھی شدید سیلاب متوقع ہے۔
پنجاب میں اب تک اموات کی تعداد 100 سے تجاوز کر گئی ہے۔ 5 ہزار دیہات اور 45 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں۔
جلالپور کھاکھی میں کشتی الٹ گئی
شجاع آباد کے علاقے جلالپور کھاکھی میں کشتی الٹنے کا واقعہ پیش آیا جس میں 40 افراد سوار تھے۔ ریسکیو 1122 کے مطابق تمام افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا۔
ملتان کو دریائے چناب سے سیلابی دباؤ کا سامنا ہے۔ ہیڈ محمد والا اور شیر شاہ کی بستیاں زیرِ آب ہیں جبکہ شجاع آباد اور جلالپور پیروالا میں لاکھوں افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔
راجن پور اور صادق آباد میں صورتحال سنگین
چاچڑاں میں سیکڑوں مکانات دریا برد ہو گئے جبکہ صادق آباد کے نبی شاہ مقام پر زمیندارہ بند ٹوٹنے سے پانی آبادیوں میں داخل ہوگیا۔ راجن پور کے کچے کے علاقے میں ہزاروں افراد بے گھر ہو گئے۔ انتظامیہ کے مطابق ایک لاکھ 10 ہزار افراد اور اتنی ہی تعداد میں مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
وہاڑی اور رحیم یار خان میں بستیاں متاثر
وہاڑی میں 100 سے زائد دیہات متاثر جبکہ 76 ہزار ایکڑ رقبے پر فصلیں زیرِ آب آگئیں۔ رحیم یار خان میں دریائے سندھ پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے اور متعدد بستیاں ڈوب گئی ہیں۔
انتظامیہ میں ردوبدل، متاثرین مشکلات کا شکار
علی پور میں اسسٹنٹ کمشنر فیض فرید بھٹہ کو عہدے سے ہٹا کر ان کی جگہ نعمان محمود کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ دنیا نیوز کی رپورٹ میں کشتی مالکان کی لوٹ مار کا انکشاف ہوا تھا۔
بہاولنگر اور سندھ میں بھی الرٹ
بہاولنگر میں ہیڈ سلیمانکی پر نچلے درجے کا سیلاب ہے جس سے کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔ سندھ میں گڈو اور سکھر بیراج پر پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے 14 سے 15 ستمبر تک اونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری کیا ہے۔
پاک بحریہ کے جوان متاثرین کے ریسکیو میں سرگرم ہیں تاہم مقامی افراد گھروں کو چھوڑنے پر تیار نہیں۔ نوڈیرو اور گردونواح میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا ہے، مال مویشی بھی پھنس گئے ہیں۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: رحیم یار خان راجن پور
پڑھیں:
غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
غزہ میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور رواں سال دسمبر تک تقریباً 14 لاکھ افراد کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ تعداد اپریل سے جون 2026 کے دوران 12 لاکھ تھی۔ یہ انکشاف انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (IPC) کی تازہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق غزہ کی 67 فیصد آبادی شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہو سکتی ہے، جبکہ 2 لاکھ 12 ہزار افراد غذائی بحران کے انتہائی ہنگامی مرحلے میں زندگی گزار رہے ہیں۔
آئی پی سی کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد امدادی سرگرمیوں میں اضافے سے حالات میں وقتی بہتری آئی تھی اور مئی کے دوران تقریباً 14 لاکھ 90 ہزار افراد تک غذائی امداد پہنچائی گئی۔ تاہم امداد کی مقدار ضرورت سے کہیں کم ہے، روزگار کے مواقع تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور 83 فیصد خاندانوں کے پاس آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ موجود نہیں، جس کے باعث آبادی کی اکثریت مکمل طور پر امدادی سامان پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔
یہ بھی پڑھیے ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اپریل 2027 تک 5 سال سے کم عمر 74 ہزار 200 بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں، جن میں 11 ہزار 432 بچوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہونے کا خدشہ ہے اور انہیں فوری طبی و غذائی امداد درکار ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت غزہ میں ہر 5 میں سے صرف ایک بچے کو مناسب خوراک میسر ہے، جبکہ تقریباً نصف خاندانوں کو روزانہ فی فرد 15 لیٹر سے بھی کم پانی دستیاب ہے، جو عالمی انسانی معیار سے کہیں کم ہے۔
اسی طرح 24 ہزار 600 سے زائد حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی مائیں شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور انہیں فوری ہنگامی غذائی امداد کی ضرورت ہے۔
آئی پی سی کے مطابق جاری جنگ کے نتیجے میں غزہ کا بنیادی ڈھانچہ بھی بری طرح تباہ ہو چکا ہے۔ تقریباً 75 فیصد رہائشی مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئے ہیں، 70 فیصد سڑکیں ناقابل استعمال ہو چکی ہیں، 95 فیصد زرعی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے، جبکہ 92 فیصد سے زائد کاروباری ادارے تباہ یا بند ہو چکے ہیں۔
رپورٹ میں ورلڈ بینک، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے مشترکہ تخمینے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ میں 35.2 ارب ڈالر مالیت کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، 22.7 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہو چکا ہے، جبکہ غزہ کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے کم از کم 71.4 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔
آئی پی سی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ اور مسلسل رسائی یقینی بنائی جائے، غذائیت سے متعلق ہنگامی پروگراموں میں توسیع کی جائے اور مستقل جنگ بندی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ انسانی بحران مزید سنگین نہ ہو۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود اکتوبر 2025 سے فضائی حملوں، گولہ باری اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ معاہدے کے بعد بھی 900 سے زائد شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
غذائی قلت غزہ فلسطین