بیٹیوں نے باپ کی موت کا ولاگ بنا کر شیئر کر دیا، صارفین کا شدید ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 14th, September 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)نیوز ڈیسک: سوشل میڈیا پر حال ہی میں سامنے آنے والے ایک واقعے نے صارفین کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ دو نوجوان بیٹیوں نے اپنے والد کے انتقال کے لمحات کو ولاگ بنا کر یوٹیوب پر شیئر کر دیا، جس پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بزرگ والد اپنی زندگی کے آخری لمحات گزار رہے ہیں، جبکہ بیٹیاں اس دوران کیمرہ آن رکھ کر نہ صرف لمحے قید کر رہی ہیں بلکہ ہنسی مذاق بھی کر رہی ہیں۔ ویڈیو میں وہ ایک دوسرے سے کہتی سنائی دیتی ہیں کہ ہمارے یوٹیوب چینل کو لائک اور سبسکرائب کریں۔ کبھی وہ والد کو عینک پہنا رہی ہیں اور کبھی تڑپتے وجود کا مذاق اڑاتی نظر آتی ہیں۔ ویڈیو کے دوران ہی بزرگ شخص کا انتقال ہو جاتا ہے۔
یہ افسوسناک منظر جنگل کی آگ کی طرح سوشل میڈیا پر پھیل گیا۔ صارفین نے اس حرکت کو شدید بے حسی قرار دیا۔ ایک صارف نے لکھا کہ باپ دنیا سے رخصت ہو رہا ہے اور بیٹیاں ویڈیو بنا رہی ہیں—یہ ہے نئی نسل کی محبت۔ ایک اور صارف نے کہا کہ یہ دیکھ کر دل کانپ گیا، شہرت کی ہوس نے انسانیت کو ختم کر دیا۔
ماہرین نے بھی اس واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ رجحان نفسیاتی زوال کی علامت ہے، جہاں سوشل میڈیا کے لائکس اور فالوورز کے لیے رشتے اور جذبات کو پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے۔
بیٹیوں نے باپ کی موت کا وی لاگ بنا ڈالا!!سوشل میڈیا کی ہوس،ڈالرز کی لالچ،،، انسانیت بیچ ڈالی!بے حسی کی انتہا۔۔۔ دیکھ کر دل دہل گیا! pic.
— Ather Salem® (@Atharsaleem01) September 14, 2025
Post Views: 1
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا رہی ہیں
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔