اماراتی پولیس کا جعل سازوں سے محتاط رہنے کا انتباہ
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ابوظبی (انٹرنیشنل ڈیسک) اماراتی پولیس نے عوام کو متنبہ کیا ہے کہ دھوکے بازوں کی جانب سے ارسال کی جانے والی فرضی ای میلز سے ہشیار رہیں جن میں شپمنٹ کی وصولی کا کہا جاتا ہے ۔ خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اماراتی پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ ایسی ای میلز لوگوں کو موصول ہورہی ہیں جن میں یہ کہا جاتا ہے کہ آپ کا پارسل آیا ہے جسے وصول کرنے کے لیے 3درہم کی فیس ادا کریں۔ جعل سازوں کی جانب سے فیس کی ادائیگی کے لیے جعلی لنک بھیجا جاتا ہے جس پر کلک کرنے سے تمام معلومات ان تک منتقل ہوجاتی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق سائبرکرائم ایجنسیوں نے عوام کو خبردار کیا کہ کسی بھی ایسی ای میل پر دیے گئے لنک کو ہرگز کلک نہ کریں تاکہ آپ کی معلومات محفوض رہیں۔ اس ضمن میں امارات الیوم اخبار نے بتایا کہ انہیں یومیہ متعدد کالز کے ذریعے یہ اطلاع دی جارہی ہے کہ ای میل اورسوشل میڈیا ایپس کے ذریعے ایسے پیغامات موصول ہورہے ہیں جن میں مطالبہ کیا جاتا ہے کہ معمولی سی فیس ادا کرکے اپنی شپمنٹ کلئیرکرائیں۔ ابوظبی پولیس نے بھی جعل سازوں کے حوالے سے خبردار کیا ہے کہ وہ ایسے پیغامات پرتوجہ نہ دیں جن میں پارسل کی وصولی کے لیے کہا گیا ہو۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جاتا ہے
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔