لاہور پولیس کا ’مشینی مخبر‘: اب مصنوعی ذہانت چور ڈکیت پکڑوائے گی!
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
لاہور پولیس نے جرائم کی روک تھام میں ایک انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی جدید سسٹم پنجاب ایمرجنسی اے آئی متعارف کروا دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پیشہ فن کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکا، لاہور کی خوبصورتی اجاگر کرنے والا آرٹسٹ پولیس اہلکار سب کے لیے مثال
یہ نظام پنجاب سیف سٹی اتھارٹی اور پنجاب آئی ٹی بورڈ کی مشترکہ کاوش ہے جو پولیس کو جرائم کے ممکنہ علاقوں کی بروقت نشاندہی، مؤثر پٹرولنگ اور فوری کارروائی میں مدد دے گا۔
ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے کہا کہ یہ جدیداے آئی سسٹم اسمارٹ پولیسنگ اور اسمارٹ پٹرولنگ کو ممکن بنائے گا جس سے لاہور پولیس کی ورکنگ میں انقلابی تبدیلی آئے گی۔
جرائم کی پیشگوئیاے آئی الگورتھم تاریخی جرائم ڈیٹا، موسم، ٹریفک پیٹرنز اور سوشل میڈیا رجحانات کا تجزیہ کر کے پولیس کو خبردار کرے گا کہ کن علاقوں میں چوری، ڈکیتی یا دیگر واردات کا خطرہ ہے۔
ہاٹ اسپاٹس کی شناختلاہور کے مصروف بازار، سڑکیں، رہائشی علاقے اور دیگر خطرناک مقامات کو ریئل ٹائم میں مانیٹر کیا جائے گا تاکہ ان علاقوں میں فوری اقدامات کیے جا سکیں۔ خطرے والے علاقوں میں پولیس کے گشت کو مؤثر بنایا جائے گا۔
15 ہیلپ لائن بھی اے آئی سے منسلکپہلی بار 15 ایمرجنسی ہیلپ لائن کو بھی اے آئی سے منسلک کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیے: مبینہ جعلی پولیس مقابلوں کیخلاف روزانہ درجنوں درخواستیں آرہی ہیں، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ
اب کال کرنے والوں کو انٹرایکٹو وائس رسپانس سسٹم (آئی وی آر) کے ذریعے خودکار آپشنز دیے جائیں گے۔ خواتین متاثرین براہ راست خاتون پولیس افسران سے رابطہ کر سکیں گی۔
پولیس ڈیٹا سسٹمز سے مکمل ہم آہنگییہ سسٹم پولیس اسٹیشن ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم، ہوٹل ای آئی اور ٹیننٹ رجسٹریشن سسٹم کے ساتھ منسلک ہے جس سے مشتبہ افراد اور مجرمان کی شناخت اور ٹریکنگ مزید آسان ہو جائے گی۔
نظام لاہور کے بعد دیگر شہروں میں بھی نافذ ہوجائے گاپنجاب سیف سٹی اتھارٹی کے مطابق یہ اے آئی سسٹم پہلے مرحلے میں لاہور میں مکمل طور پر فعال کیا جا رہا ہے اور جلد ہی اسے دیگر شہروں میں بھی نافذ کر دیا جائے گا تاکہ پورے صوبے میں جرائم کی مؤثر نگرانی ممکن ہو۔
مزید پڑھیں: لاہور ٹریفک پولیس نے ایک دن میں 11 بچوں کو پیشہ ور بھکاریوں کے چنگل سے بچالیا
لاہور پولیس کا یہ اقدام پاکستان میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی ایک روشن مثال ہے۔ اگر یہ سسٹم مؤثر ثابت ہوتا ہے تو یہ پولیسنگ کے روایتی طریقہ کار میں ایک انقلابی تبدیلی لا سکتا ہے جہاں جرائم پیش آنے سے پہلے ان کی پیشگوئی ممکن ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پنجاب پنجاب ایمرجنسی اے آئی چور پکڑنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال لاہور لاہور پولیس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پنجاب ایمرجنسی اے ا ئی لاہور لاہور پولیس لاہور پولیس جائے گا اے ا ئی
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔