صوابی، ٹک ٹاک پر غیراخلاقی ویڈیو وائرل کرنے والا لڑکا گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
ترجمان ضلعی پولیس صوابی نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر ایک غیر اخلاقی ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک لڑکے کو غیراخلاقی فعل کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا اور اس واقعے پر عوامی سطح پر شدید غم و غصہ اور افسوس کا اظہار کیا گیا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ صوابی پولیس نے ٹک ٹاک پر غیراخلاقی ویڈیو وائرل کرنے والا ملزم عرف مٹرو کو گرفتار کرلیا۔ ترجمان ضلعی پولیس صوابی نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر ایک غیر اخلاقی ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک لڑکے کو غیراخلاقی فعل کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا اور اس واقعے پر عوامی سطح پر شدید غم و غصہ اور افسوس کا اظہار کیا گیا تھا۔ پولیس نے ملزم اصغر عرف مٹرو کینگ سکنہ بندو اوبہ کو گرفتار کرلیا۔ پولیس ترجمان نے بتایا کہ ایسے غیر اخلاقی اور معاشرتی اقدار کے منافی اقدامات کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے۔
ڈسٹرکٹ پولیس افسر صوابی ضیا الدین احمد نے کہا کہ صوابی پولیس ایسے عناصر کو سختی سے کچلے گی جو معاشرتی اقدار، مذہبی اور انسانی اصولوں کے خلاف غیر اخلاقی حرکات میں ملوث ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے افراد کسی رعایت کے مستحق نہیں، ان کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی کے تحت سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ پولیس افسر نے کہا کہ عوام سے اپیل ہے کہ معاشرتی بگاڑ پیدا کرنے والوں کی نشان دہی کرکے پولیس کے ساتھ تعاون کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اخلاقی ویڈیو وائرل غیر اخلاقی گیا تھا
پڑھیں:
سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
کراچی کی سٹی کورٹ میں ڈاکٹر آکاش قتل کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کو مقدمے کی تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
پولیس کے مطابق ایس آئی یو ویسٹ نے ڈاکٹر آکاش کے قتل میں ملوث ملزمان کے خلاف مزید کارروائی کرتے ہوئے تین افراد، سریش عرف ساگر، انیل اور رام چند کے قتل کا مقدمہ اسلم پہنور اور اس کے ساتھیوں کے خلاف درج کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسلم پہنور ایک ڈکیت گروہ کا سرغنہ ہے۔
پولیس کے مطابق ملزمان نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں زیر حراست تین ملزمان اور ایک ہیڈ کانسٹیبل زخمی ہو گئے۔ بعد ازاں زیر حراست تینوں ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے، جبکہ زخمی ہیڈ کانسٹیبل کو اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اس کا علاج جاری ہے۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر آکاش کو بینک سے رقم لے کر جاتے ہوئے قتل کیا گیا تھا۔ پولیس نے اس کیس میں تین ملزمان کو گرفتار کیا تھا، جو دوران حراست ہلاک ہو گئے۔