Juraat:
2026-06-03@00:14:37 GMT

قربانیوں کا صلہ ترقیاں بند اور کٹوتیاں؟

اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT

قربانیوں کا صلہ ترقیاں بند اور کٹوتیاں؟

میری بات/روہیل اکبر

مہنگائی کے اس دور میں عام شہری بری طرح متاثر ہے۔ آٹا، گھی، چینی اور بجلی کے نرخ آسمان کو چھو رہے ہیں۔ وہی پر پنجاب حکومت نے ایک اور ظالمانہ فیصلہ کرتے ہوئے اپنے سرکاری ملازمین کی پنشن اور گریجویٹی میں کٹوتیاں کر دی ہیں ۔یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا جب ایک عام سرکاری ملازم کا بجٹ پہلے ہی بری طرح ڈگمگا چکا ہے ۔اس طرح پنجاب کے چند ایک محکموں کے علاوہ کہیں بھی کسی ملازم کو وقت پر ترقی مل رہی ہے اور نہ ہی کوئی مراعات بلکہ اس بگڑی قوم کو سلجھی ہوئی قوم بنانے والے معماروں کو بھی رولا جارہا ہے ۔ہاں اس حکومت نے اپنے پیاروں کو نوازنے کے لیے الگ سے راستے ضرور نکال رکھے ہیں ،جس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔
ان سازوں کو چھیڑنے سے پہلے پنجاب کے سرکاری ملازمین کی بات کرلیتے ہیں جنہوں نے نوجوانی سے بڑھاپے تک ریاست اور حکومت کے لیے اپنی زندگیاں وقف کیں کبھی جلسوں کی ڈیوٹیاں، کبھی الیکشن کے دوران دن رات کی محنت، کبھی مشکل وقت میں حکومت کی ہدایات پر عمل درآمد یہاں تک کہ ان کے ناجائز احکامات پر بھی آنکھ بند کرکے عمل کیا تاکہ حکومت کا پہیہ چلتا رہے اور آج انہی وفادار ملازمین کو ذبح کرنے کا پروگرام بنا لیا گیا ہے۔ اس ساری صورتحال میں سرکاری ملازمین سوال کرتے ہیں کہ پنجاب حکومت نے آخر اپنے ہی ملازمین کو کیوں تختہ مشق بنا رکھا ہے؟ مہنگائی کے طوفان میں پسے ہوئے اس طبقے کی پنشن اور گریجویٹی میں 20 سے 30 فیصد تک کٹوتیاں کر کے حکومت نے ثابت کر دیا ہے کہ اسے ان محنت کشوں کے دکھ درد سے کوئی سروکار نہیں۔ یہ فیصلہ تقریباً پانچ لاکھ سے زائد ریٹائرڈ اور ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین کو براہِ راست متاثر کر رہا ہے ۔
حکمران یاد رکھیں! ایک استاد جو اپنی جوانی کے خوبصورت پچیس تیس سال نئی نسل کے سپرد کر کے بچوں کوزیورِ تعلیم سے آراستہ کرتا ہے، ایک کلرک جو فائلوں کے بوجھ تلے ساری زندگی پس جاتا ہے۔ ایک پولیس اہلکار جو جان ہتھیلی پر رکھ کر عوام کی حفاظت کرتا ہے ۔یہ سب آخر میں صرف اسی آس پر زندہ رہتے ہیں کہ ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں پنشن اور گریجویٹی ملے گی۔ تاکہ وہ عزت سے باقی زندگی گزار سکیں اور آپ نے ان کا یہ آخری سہارا بھی چھین لیا؟کیا پنجاب کے ملازم باقی صوبوں کے ملازمین سے کم تر ہیں؟ سندھ اور خیبرپختونخواہ میں مراعات بڑھائی جا رہی ہیں گریجویٹی پوری دی جا رہی ہے۔ پنشن پر کوئی کٹوتی نہیں جبکہ پنجاب میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ ایک ملک میں دو قانون کیوں ہیں؟حکمرانوں کو خبر ہو! اگر یہ کٹوتیاں فوری طور پر واپس نہ لی گئیں تو اس کے نتائج سنگین ہوسکتے ہیں۔ مایوسی بڑھنے سے سرکاری اداروں میں بدعنوانی کئی گنا بڑھ جائے گی ۔اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ اس پالیسی کے بعد رشوت اور غیر قانونی ذرائع آمدن میں 40 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے ۔کیونکہ ملازمین اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے مجبوراً غلط راستے اختیار کریں گے ۔اس لیے حکومت ملازمین کی خاموش آواز کو سنتے ہوئے یہ پالیسی واپس لیں ۔اگر ایسا نہ کیا گیا توپھر پنجاب کے سرکاری ملازمین سڑکوں پر نکلیں گے اور یہ احتجاج محض چند دنوں کی آواز نہیں ہو گا بلکہ ایک صوبائی تحریک بن جائے گی ۔جسے دبانا حکومت کے بس میں نہیں ہوگا ۔اسکے ساتھ ساتھ حکومت کو پنجاب کے ملازمین کی ترقیوں کے حوالہ سے بھی جلد فیصلے کرنے چاہیے کیونکہ سرکاری ملازمین خصوصاً اساتذہ کے لیے ترقی کا خواب برسوں سے خواب ہی بنا ہوا ہے۔ ترقیوں کی سست روی نہ صرف ملازمین کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ یہ ان کی محنت، لگن اور قربانیوں کی توہین کے مترادف ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں تقریباً 1.

2 لاکھ اساتذہ گزشتہ 8 سے 10 برس سے ترقی کے منتظر ہیں جبکہ مختلف محکموں کے 3 لاکھ سے زائد گریڈ 1 تا 16 کے ملازمین برسوں سے ترقی کی راہ تک رہے ہیں ۔کئی ملازمین اپنی پوری سروس ایک ہی گریڈ میں مکمل کر کے ریٹائر ہو چکے ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ ترقیوں کا عمل نہایت سست اور ناقص منصوبہ بندی کا شکار ہے جبکہ سرکاری ملازم کی پیشہ ورانہ زندگی کا سب سے بڑا سہارا ترقی اور تنخواہ میں اضافہ ہوتا ہے لیکن پنجاب میں ترقی کا یہ حق چھین لیا گیا ہے۔ کیا یہ انصاف ہے کہ ایک استاد تین دہائیوں میں بھی اگلے گریڈ میں نہ جا سکے؟ کیا یہ مناسب ہے کہ کسی محکمے کا ایماندار افسر اپنی ساری زندگی خدمت کے باوجود وہی تنخواہ اور وہی عہدہ لے کر رخصت ہو جائے؟ یہ صورتحال ملازمین میں مایوسی اور بددلی کو جنم دے رہی ہے۔ شائد یہی وجہ ہے کہ ترقیوں میں تاخیر اور رکی ہوئی سنیارٹی لسٹوں کے باعث سرکاری اداروں میں کارکردگی میں 30 فیصد تک کمی دیکھی جا رہی ہے۔ جب محنت کا صلہ نہ ملے تو ایماندار ملازم بھی دل برداشتہ ہو جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کرپشن بڑھتی ہے اور رشوت خوری کو فروغ ملتا ہے کیونکہ لوگ اپنے معاشی مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے ناجائز ذرائع ڈھونڈنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اس لیے حکومت پنجاب کو فوری طور پر اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے۔ ترقیوں کے عمل کو تیز، شفاف اور میرٹ پر مبنی بنایا جائے تاکہ ملازمین کے اعتماد کو بحال کیا جا سکے ۔یہ وہی ملازمین ہیں جن سے آپ کی حکومت قائم ہے ان کو عزت، ترقی اور معاشی تحفظ دینا بھی آپ کی بنیادی ذمہ داری ہے ۔
٭٭٭

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: سرکاری ملازمین سرکاری ملازم ملازمین کی پنجاب کے حکومت نے کے ملازم رہی ہے کے لیے

پڑھیں:

جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری

جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کے نئے کیسز سامنے آنے کے بعد صوبائی محکمہ صحت کی تشویش میں اچانک اضافہ ہو گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ملتان کے ’نشتر اسپتال‘ میں اب تک منکی پاکس کے 4 مریضوں کی باقاعدہ تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اسپتال اور گردونواح میں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

آئسولیشن وارڈ میں مریضوں کی تعداد اور آبائی علاقے

نشتر اسپتال انتظامیہ کے مطابق حال ہی میں ایک اور مشتبہ مریض کو وائرس کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر خصوصی آئسولیشن وارڈ میں داخل کر لیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سندھ میں منکی پاکس کے کیسز میں اضافہ، 9 اموات کی تصدیق

اس نئے کیس کے بعد وارڈ میں زیرِ علاج اور کڑی نگرانی میں رکھے گئے مریضوں کی مجموعی تعداد 5 ہو گئی ہے۔ اسپتال حکام کا کہنا ہے کہ جن مریضوں میں ’منکی پاکس‘ کی تصدیق ہوئی ہے ان کا تعلق جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع بالخصوص ملتان، مظفرگڑھ اور وہاڑی سے ہے۔

اسپتال انتظامیہ کے اقدامات اور ٹیسٹنگ

اسپتال کے وبائی امراض کے ماہرین اور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ منکی پاکس کے تصدیق شدہ مریضوں کے علاج اور دیکھ بھال پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ ان کی جلد صحت یابی ممکن ہو سکے۔

دوسری جانب، نئے آنے والے مشتبہ مریض کے خون اور زخموں کے نمونے (سیمپلز) حتمی جانچ اور تصدیق کے لیے لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں، جن کی رپورٹ اگلے چند روز میں موصول ہونے کا امکان ہے۔

محکمہ صحت کی نگرانی اور احتیاطی تدابیر کی اپیل

محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام نے عوام الناس کو وبائی مرض سے بچنے کے لیے فوری طور پر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی سخت ہدایت کی ہے۔

مزید پڑھیں:کراچی میں منکی پاکس: بیوی کے بعد شوہر بھی لپیٹ میں آگیا

ترجمان محکمہ صحت کے مطابق خطے میں صورتحال کی مسلسل اور سخت نگرانی کی جا رہی ہے اور اس موذی بیماری کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ضلعی سطح پر تمام ضروری اور حفاظتی اقدامات ہنگامی بنیادوں پر جاری ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

احتیاطی تدابیر اسپتال اقدامات ٹیسٹنگ جنوبی پنجاب خون زخموں لیبارٹری محکمہ صحت منکی پاکس نگرانی۔ نمونے

متعلقہ مضامین

  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی