فیڈرل اردو یونیورسٹی اسلام آباد میں سمسٹر خزاں کا آغاز، طلبہ کیلئے تعارفی تقریب کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
اسلام آباد:
فیڈرل اردو یونیورسٹی اسلام آباد میں سمسٹر خزاں 2025 کا آغاز ہوا جہاں طلبہ کے لیے تعارفی تقریب کا انعقاد کیا گیا اور اساتذہ نے نئے طلبہ کو جامعہ کے قواعد و ضوابط، کورسز سمیت تعلیمی سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔
انچارج کیمپس فیڈرل اردو یونیورسٹی اسلام آباد ڈاکٹر صبا بشیر، ڈائریکٹرایڈمیشن ڈاکٹر احمد رضا اور دیگر اساتذہ نئے داخلے لینے والے طلبہ کے استقبال کے لیے چشم براہ تھے اور مرکزی تعارفی تقریب جامعہ کے آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی، طلبہ کے ساتھ ساتھ والدین کی بھی بڑی تعداد بھی تقریب میں شریک تھی
ڈاکٹر صبا بشیر نے طلبا و طالبات کو پرجوش انداز میں خوش آمدید کہا اور انہیں یونیورسٹی کے قواعد و ضوابط سے آگاہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ فیڈرل اردو یونیورسٹی میں انتہائی ہائی کوالیفائیڈ اور ہنرمند اساتذہ موجود ہیں یہاں سے بچوں کو عصر حاضر کے تقاضوں کے کے مطابق تیار کرکے عملی میدان کی طرف بھیجا جاتا ہے، یہاں آنے والا ہر طالب علم اس قوم کی امانت ہے اور ہم بچوں کو قوم کی حقیقی معنوں میں خدمت کرنے کے قابل بنائیں گے۔
ڈائریکٹر ایڈمیشن ڈاکٹر احمد رضا نے کہا کہ بعض شعبوں میں داخلے کے لیے سخت مقابلہ تھا، سو جن طلبہ کو داخلہ ملا ہے وہ خوش قسمت ہیں اور یونیورسٹی نوجوانوں کو نئے زمانے کے موافق نئے مواقع اور وسائل سے آگاہ کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں طالب علموں کو کسی طرح کے انتظامی مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، فیکلٹی ممبرز ایک ویژن کے ساتھ بچوں کی تعلیمی اور پروفیشنل تربیت کرتے ہیں۔
بعد ازاں مختلف شعبوں میں الگ الگ تعارفی سیشنز جہاں متعلقہ شعبوں کے سربراہان اور اساتذہ نے طلبہ کو تعلیمی کیریئر کے حوالے سے رہنمائی کی، سمسٹر کے کورسز اور اوقات کار سے آگاہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فیڈرل اردو یونیورسٹی اسلام آباد سے آگاہ
پڑھیں:
فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
اسلان درانی : فیصل آباد میں حکومت اور پٹرول پمپ مالکان کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے، جس کے بعد پٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال کا اعلان کر دیا, ہڑتال کے باعث شہر میں متعدد پٹرول پمپس پر پٹرول کی فراہمی معطل ہو گئی، جس سے شہریوں کو ایندھن کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) اور گو (GO) کے چند پمپس کے علاوہ بیشتر مقامات پر پٹرول دستیاب نہیں، جبکہ کھلے پمپس پر بھی گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول تک رسائی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
شہریوں نے شکایت کی کہ پٹرول پہلے ہی مہنگا ہو چکا ہے اور اب اس کی عدم دستیابی نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول پمپ مالکان سپلائی میں تعطل کو جواز بنا رہے ہیں، جس سے عام صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں، پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور حکومت و پٹرول پمپ مالکان کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ معمولاتِ زندگی متاثر نہ ہوں۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ