مون سون ختم ہوا سارے دریا معمول کی سطح پر آچکے ہیں، ڈی جی پی ڈی ایم اے پنجاب
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
لاہور:
پروانشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) عرفان علی کاٹھیا نے کہا ہے کہ مون سون ختم نہیں ہوا لیکن صوبے میں دریا معمول کی سطح پر آچکے ہیں۔
ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) پی ڈی ایم اے پنجاب عرفان علی کاٹھیا نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ مون سون مکمل ختم ہو گیا ہے، جتنے بھی دریا تھے وہ نارمل ہو چکے ہیں، چناب میں مرالہ سے پنجند تک کوئی پیک نہیں ہے اور جسڑ سے سدھنائی تک پانی نارمل سطح پر آچکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ستلج پر بہاؤ زیادہ ہے، بہت سی جگہوں پر پونڈنگ ختم ہو رہی ہیں، ایم 5 موٹروے 22 کلو میٹر کا ایریا پانی کی وجہ سے بند ہے اس کو بحال کر رہے ہیں، اسی طرح موٹر وے پر دس سے بارہ کلومیٹر کی پونڈنگ بنی ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گیلانی ایکسپریس وے سے چناب کی طرف نکل رہا ہے، دریائے چناب کا اپنا لیول ڈاؤن ہو رہا ہے، جلال پور سے لودھراں روڈ تک آمدورفت کے لیے بندہے۔
ڈی جی نے بتایا کہ 28 اضلاع میں 4795 موضوجات متاثر ہوئے، سیلاب سے کل 4 لاکھ 7 ہزار 30 لوگ متاثر ہوئے، ساوتھ پنجاب میں 331 کیمپ لگائے گئے ہیں، ریلیف کیمپس میں علی پور جلالپور ایک لاکھ 6 ہزار لوگ رہائش پذیر ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ425 میڈیکل کیمپس ہیں، کلینک ان ویل بھی ہیں، اب بوٹس بھی پانی کی کمی کی وجہ سے نکال لیا ہے، سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں کل 6لاکھ 12ہزار 833 لوگوں کو نکالا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ سیلاب میں کل 20لاکھ جانوروں کو نکالا گیا، سیلاب کی وجہ سے اب تک 123 اموات ہوئی ہیں، 25 لاکھ 82 ہزار ایکڑ زمین متاثر ہوئی ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ گجرات اور فیصل آباد میں فصلوں کی سب سے زیادہ تباہی ہوئی، مکئی کی فصل کو نقصان ہوا، چاول کی فصل کو 15 فیصد، گنا کی فصل کو 13 فیصد اور کپاس کی فصل کو 5 فیصد نقصان ہوا۔
عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ 824 جانوروں گم ہونے کی اطلاعات ہیں لیکن اس کا اب سروے ہو گا۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پی ڈی ایم اے کی فصل کو بتایا کہ
پڑھیں:
مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
اسلام آباد، گزشتہ مہینے پاکستان میں 3ہزار 161نئی کمپنیاں رجسٹرڈ(companies registerd) ہوئیں جس کے بعد رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد 2لاکھ 97 ہزار 239 تک پہنچ گئی۔ ڈیجیٹلائزیشن کے باعث 99.9 فیصد کمپنیاں آن لائن رجسٹر کی گئیں۔
ایس ای سی پی کے مطابق صوبائی اور علاقائی لحاظ سے مئی کے دوران سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں پنجاب میں رجسٹر ہوئیں، جبکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 کمپنیاں رجسٹر کی گئیں۔
خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر کی گئیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ای کامرس کا سیکٹر سرفہرست رہا، جہاں آئی ٹی میں سب سے زیادہ 598 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔
اس کے بعد ٹریڈنگ میں 503 ، سروسز سیکٹر میں 404 ، رئیل اسٹیٹ اور کنسٹرکشن میں 303 جبکہ سیاحت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں 206 نئی کمپنیوں نے رجسٹریشن کرائی۔ مئی میں 17 ممالک کے سرمایہ کاروں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کی۔
مزید پڑھیں:بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
چین سرفہرست رہا جہاں کے نواسی شیئر ہولڈرز نے کمپنیوں میں ڈائریکٹر شپ حاصل کی۔ تمام غیر ملکی کمپنیوں کا مجموعی ادا شدہ سرمایہ تیرہ کروڑ چورانوے لاکھ روپے ہے۔