ڈاکٹر فاروق عادل کی شخصی خاکوں پر مشتمل کتاب’دیکھا جنھیں پلٹ کے‘ شائع ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
ممتاز دانش ور اور ادیب ڈاکٹر فاروق عادل کی شخصی خاکوں پر مشتمل کتاب ’دیکھا جنھیں پلٹ کے‘ شائع ہو گئی ہے۔
یہ کتاب سات حصوں پر مشتمل ہے جس میں قومی تاریخ کی بزرگ شخصیات، قائد ملت نواب زادہ لیاقت علی خان، مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی، سردار عبد الرب نشتر، سابق وزیر اعظم نواز شریف، صدر آصف علی زرداری، نواب زادہ نصراللہ خان، وزیر اعظم شہباز شریف کی والدہ محترمہ شمیم اختر، عمران خان، علامہ طاہر القادری، پروفیسر خورشید احمد، مولانا امین احسن اصلاحی، مولانا وحیدالدین خان، امجد اسلام امجد، محمد حمید شاہد، ترک دانش ور ڈاکٹر خلیل طوقار، پروفیسر زکریا ساجد، پروفیسر متین الرحمٰن مرتضیٰ، مسجد اقصیٰ کے امام شیخ صائم، سابق وفاقی وزرا، انیق احمد، اور مرتضیٰ سولنگی، جنرل پرویز مشرف ، سید منور حسن ، بیگم نسیم ولی خان ، مولانا سمیع الحق ، مشاہد اللہ خان ، جاوید ہاشمی ، سید تاج حیدر ، سینیٹر گلزار احمد خان، حافظ سلمان بٹ، حاجی سید اللہ، مولانا گلزار احمد مظاہری، مجیب الرحمٰن شامی ، عرفان صدیقی ، جمیل اظہر، شورش کاشمیری ، اطہر ہاشمی ، پروفیسر زکریا ساجد، پروفیسر متین الرحمٰن مرتضیٰ ، پروفیسر ارشاد حسین نقوی ،خطاط رشید شاہد، نیرہ نور، جنید جمشید اور عامر لیاقت حسین سمیت اہم شخصیات کے خاکے شامل ہیں۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر فاروق عادل قومی رحمۃ للعالمین و خاتم النبیین اتھارٹی کے ممبر اور صدر پاکستان کے سابق مشیر ہیں۔
ان خاکوں کا امتیاز یہ ہے کہ ڈاکٹر فاروق عادل نے بیشتر سیاست دانوں، ادیبوں اور دانش وروں کے خاکے خود اپنے مشاہدے اور زیر تذکرہ شخصیات کے ساتھ برسوں کے تعلق کے بعد لکھے ہیں جب کہ بزرگ شخصیات کے بارے میں انھوں نے انتہائی قریبی مشاہدہ رکھنے والی شخصیات اور ان کے معتمد ترین لوگوں سے رابطوں اور ان کی تصدیق کے بعد قلم اٹھایا ہے۔
ان خاکوں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ان کے مطالعے کے بعد لوگ ان قومی شخصیات کے بارے میں اتنا کچھ جان جائیں گے جس کے لیے برسوں کا مطالعہ اور مشاہدہ درکار ہوتا ہے۔ پروفیسر متین الرحمٰن مرتضیٰ نے ڈاکٹر فاروق عادل کی تحریروں کے بارے میں رائے ظاہر کی ہے کہ ان کے مشاہدے میں غیر جانب داری، باریک بینی اور غورو فکر کا مواد غیر معمولی ہوتا ہے۔ ڈاکٹر فاروق عادل صاحب طرز ادیب ہیں جنھیں پڑھتے ہوئے زیر بحث شخصیات کی تصویر آنکھوں کے سامنے ابھر آتی ہے۔
’دیکھا جنھیں پلٹ کے‘ قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل نے شائع کی ہے جس کے سربراہ علامہ عبد الستّار عاصم نے کہا ہے کہ قومی اور بین الاقوامی سطح کی شخصیات پر مشتمل خاکوں کی ایسی کتاب اردو ادب میں طویل عرصے کے بعد شائع ہو رہی ہے جسے طویل عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستانی سیاست کے طالب علموں، محققین اور صحافیوں کے لیے یہ کتاب قیمتی اثاثہ ثابت ہو گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
دیکھا جنھیں پلٹ کے ڈاکٹر فاروق عادل شخصی خاکے کتاب مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی نواب زادہ لیاقت علی خان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر فاروق عادل شخصی خاکے کتاب مولانا سید ابو الاعلی مودودی نواب زادہ لیاقت علی خان ڈاکٹر فاروق عادل شخصیات کے الرحم ن کے بعد
پڑھیں:
واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد
امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک کاغذ سازی کے کارخانے میں کیمیائی ٹینک پھٹنے کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق تمام لاپتا افراد کی لاشیں ملبے سے نکال لی گئی ہیں، جبکہ حادثے کی وجوہات اور ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک صنعتی تنصیب پر کیمیائی ٹینک پھٹنے کے المناک حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 تک پہنچ گئی ہے۔ حکام نے ہفتے کے روز تصدیق کی کہ لاپتا قرار دیے گئے تمام نو افراد کی لاشیں ملبے سے برآمد کر لی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق ابتدائی طور پر حادثے کے فوراً بعد دو ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی تھی، جبکہ دیگر افراد لاپتا ہو گئے تھے۔ امدادی اور بحالی کی ٹیموں نے پورے ہفتے متاثرہ مقام پر سرچ آپریشن جاری رکھا، جس کے دوران عمارت کے اندر ملبے کو ہٹانے کے ساتھ ساتھ ڈرونز کی مدد سے علاقے کا فضائی جائزہ بھی لیا گیا۔
کاؤلٹز 2 فائر اینڈ ریسکیو کے ڈپٹی چیف کرٹ اسٹیچ نے بتایا کہ امدادی کارکنوں نے انتہائی دشوار حالات میں ملبے کے نیچے پھنسے افراد کی تلاش جاری رکھی اور بالآخر تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد کر لی گئیں۔
حادثہ منگل کے روز لانگ ویو شہر میں واقع نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ (Nippon Dynawave Packaging) کے کارخانے میں پیش آیا، جہاں ’وائٹ لِکر‘ نامی کیمیائی محلول سے بھرا ایک بڑا ٹینک اندرونی دباؤ کے باعث پھٹ گیا تھا۔ یہ محلول سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ اور سوڈیم سلفائیڈ پر مشتمل ہوتا ہے اور کاغذ کے گودے (Paper Pulp) کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق متاثرہ ٹینک میں تقریباً 9 لاکھ گیلن (34 لاکھ لیٹر) کیمیائی محلول موجود تھا۔ بعد ازاں کیے گئے ٹیسٹوں سے یہ بات سامنے آئی کہ کچھ مقدار قریبی دریائے کولمبیا تک پہنچ گئی تھی، تاہم اب تک فضائی معیار یا لانگ ویو شہر کے پینے کے پانی پر کسی منفی اثرات کی نشاندہی نہیں ہوئی۔
نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ جاپان کی دوسری بڑی کاغذ ساز کمپنی Nippon Paper Industries کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی ہے۔ جاپانی کمپنی نے 2016 میں سیئٹل کی لکڑی اور جنگلاتی مصنوعات تیار کرنے والی کمپنی Weyerhaeuser سے لانگ ویو کا یہ پلانٹ 225 ملین ڈالر میں خریدا تھا۔
حکام نے کہا ہے کہ حادثے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور اس بات کا تعین کیا جا رہا ہے کہ ٹینک کے اندر دھماکے یا انہدام کی اصل وجہ کیا تھی۔ ساتھ ہی ماحولیاتی ماہرین بھی قریبی علاقوں میں ممکنہ آلودگی کے اثرات کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں