باتھ روم میں موبائل فون کا استعمال بواسیر کا سبب بن سکتا ہے
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
امریکا کے شہر بوسٹن میں کی گئی ایک طبی تحقیق کے مطابق رفع حاجت کے دوران موبائل فون استعمال کرنے سے بواسیر ہونے کا خطرہ 46 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔
تحقیق میں شامل 125 افراد کا کولونوسکوپی کے ذریعے معائنہ کیا گیا، جن میں سے 66 فیصد افراد نے بتایا کہ وہ باتھ روم میں فون پر اسکرولنگ کرتے ہیں اور عموماً 5 منٹ یا اس سے زائد وقت ٹوائلٹ پر بیٹھے رہتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق زیادہ دیر تک بیٹھنے سے مقعد اور ریکٹم کی رگوں پر دباؤ پڑتا ہے، جو ان میں سوجن اور بواسیر کا باعث بنتا ہے۔ فون کے استعمال سے لوگ بغیر سوچے طویل وقت بیٹھے رہتے ہیں، جس سے مسئلہ مزید بڑھ جاتا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی پایا گیا کہ ایسے افراد کی جسمانی سرگرمیاں بھی کم ہوتی ہیں، جو بواسیر جیسے مسائل کو مزید بڑھا دیتی ہیں۔ ماہرین صحت مند طرز زندگی اور متحرک روٹین اپنانے کا مشورہ دیتے ہیں تاکہ ان مسائل سے بچا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔