Daily Mumtaz:
2026-06-03@00:27:01 GMT

چینی کا بحران، شوگر ملز ایسوسی ایشن کا انتباہ

اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT

چینی کا بحران، شوگر ملز ایسوسی ایشن کا انتباہ

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ حکومت کی حالیہ پالیسیوں کے نتیجے میں ملک میں چینی کا سنگین بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
نجی نیوز ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایسوسی ایشن نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے چینی کی فروخت کو صرف مخصوص پورٹل کے ذریعے مشروط کرنے پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے شوگر ملز کی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
ایسوسی ایشن کے ترجمان نے نشاندہی کی کہ مقامی چینی کی فروخت پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں، جبکہ درآمدی چینی کی نہ فروخت پر کوئی قدغن ہے اور نہ ہی قیمت پر کوئی کنٹرول، جو کہ سراسر تضاد ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کی غیر متوازن پالیسیوں کے نتیجے میں مارکیٹ میں چینی کی قلت پیدا ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوگا، اور اس کے اثرات براہِ راست عوام پر پڑیں گے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ ایسی صورتحال کی ذمہ داری شوگر انڈسٹری پر نہیں ڈالی جا سکتی۔
ایسوسی ایشن نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ ملک بھر کی تمام شوگر ملز کو چینی فروخت کرنے کی مکمل اجازت دی جائے تاکہ مارکیٹ میں استحکام پیدا ہو اور صارفین کو بلاوجہ مہنگائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ایسوسی ایشن شوگر ملز چینی کی

پڑھیں:

چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا

اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔

محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔

ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا