اسرائیلی قابض فوج کے غزہ پر حملے جاری: مزید 51فلسطینی شہید
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
غزہ: اسرائیل کی قابض افواج کے غزہ پر بدترین حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جس میں مزید 51 فلسطینی شہید ہو گئے ہیں۔
قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق غزہ سٹی سمیت مختلف علاقوں میں اسرائیلی افواج نے نہتے فلسطینیوں کو نشانہ بنایا، عارضی کیمپ پر کیے گئےایک حملے میں 4 افراد شہید جب کہ متعدد زخمی ہوئے۔
اسرائیلی افواج نے شہر کے شمال مغربی حصے میں بھی شدید گولہ باری اور ریموٹ کنٹرول حملے کیے، جب کہ شمال مشرقی حصے میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا۔
اسرائیلی فضائیہ نے مغربی غزہ سٹی کے ایک اسکول کو نشانہ بنایا، متاثرہ اسکول میں بے گھر افراد پناہ لیے ہوئے تھے، جس میں 2 بچے شہید ہوئے۔
فلسطین کی سرکاری نیوز ایجنسی ’وفا‘ کے مطابق غزہ سٹی کے تفاح محلے میں اسرائیلی ڈرون حملے میں 6 افراد شہید ہوئے، ایک اور واقعے میں اسرائیلی افواج نے یعبد قصبے پر چھاپے کے دوران 29 سالہ فلسطینی شخص پر تشدد کر کے اُسے زخمی کردیا، جسے فلسطینی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کی ٹیم نے قریبی ہسپتال منتقل کیا۔
غزہ کے مغربی علاقے میں قائم شَتی پناہ گزین کیمپ میں الشفا میڈیکل کمپلیکس کے ڈائریکٹر محمد ابو سلمیہ کے بھائی کے گھر پر اسرائیل نے فضائی حملہ کیا، جس میں ڈائریکٹر الشفا ہسپتال کے بھائی ماجد اور اُن کی اہلیہ شہید ہو گئیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔