سعودی عرب بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کا رکن منتخب
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
سعودی عرب بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کا رکن منتخب ہو گیا ہے۔
ویانا میں منعقدہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے 69ویں سالانہ اجلاس میں سعودی عرب کو ایجنسی کے گورنرز بورڈ کا رکن منتخب کر لیا گیا ہے۔ مملکت اب 2027 تک گورنرز بورڈ میں اپنی خدمات سرانجام دے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ اور خطے کی سیاست پر اثرات
گورنرز بورڈ 35 ارکان پر مشتمل ایجنسی کا اہم ترین فیصلہ ساز ادارہ ہے جو حساس معاملات بالخصوص جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے کے تحت رکن ممالک کی سرگرمیوں کی پُرامن نوعیت کی نگرانی، ایجنسی کے مالیاتی بیانات، پروگرام اور بجٹ کی جانچ پڑتال کرتا ہے اور اپنی سفارشات جنرل کانفرنس کو پیش کرتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب نے اس سے قبل 2022 سے 2024 تک گورنرز بورڈ میں نمائندگی کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی ایٹمی تنصیبات ہر حملہ، سعودی عرب نے خلیجی فضا تابکاری سے محفوظ قرار دیدی
مملکت کا دوبارہ انتخاب اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی برادری سعودی عرب کے مؤثر اور تعمیری کردار پر اعتماد رکھتی ہے اور اسے عالمی امن و ترقی کے لیے ایٹمی توانائی کے پُرامن استعمال کو فروغ دینے کی کوششوں کا اہم شراکت دار سمجھتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news انٹرنیشنل ایٹمی توانائی ایجنسی ایٹمی توانائی رکن منتخب سعودی عرب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انٹرنیشنل ایٹمی توانائی ایجنسی ایٹمی توانائی ایٹمی توانائی ایجنسی گورنرز بورڈ
پڑھیں:
وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
سٹی 42: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت سرمایہ کاری میں اضافے، صنعتی ترقی اور معیشت کی بہتری کے حوالے سے اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف شعبوں میں اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر غور کیا گیا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت و حرفت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ صنعتی پیداوار اور برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر اور دیرپا پالیسی اقدامات کو ترجیح دی جائے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
وزیراعظم نے کہا کہ صنعت، تجارت اور معیشت کے مختلف شعبوں میں اصلاحات عوامی فلاح اور طویل المدتی معاشی استحکام پر مرکوز ہونی چاہئیں۔ انہوں نے متبادل توانائی کے ذرائع کے فروغ اور مستقبل کی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے جامع حکمت عملی پر تیزی سے عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے مؤثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ جدید ٹیکنالوجی کو مختلف شعبوں میں متعارف کرانے کے لیے وزارتوں اور ماہرین کے درمیان مؤثر مشاورت یقینی بنائی جائے۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ، وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وزیر توانائی اویس لغاری، وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔