سوشل میڈیا پر دولت کی نمائش کرنیوالے ایف بی آر کے ریڈار پر، کارروائی کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
30 ستمبر تک انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے والوں کی فہرست تیار ،اکتوبر سے کارروائیاں شروع ہوں گی
مہنگی گاڑیوں، گھروں، کپڑوں اور جیولری کی نمائش کرنے والے نان فائلرز گرفت میں آئیں گے،ذرائع
ایف بی آر نے نان فائلرز سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے خلاف سخت اقدامات کا فیصلہ کر لیا۔ذرائع کے مطابق 30 ستمبر تک انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے والوں کی فہرست تیار کی جارہی ہے جس کے بعد اکتوبر سے بڑے پیمانے پر کارروائیاں شروع ہوں گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ دولت کی نمائش کرنے والے نان فائلرز انفلوئنسرز کی تفصیلات نادرا سے حاصل کرلی گئی ہیں، ان کے بینک اکاؤنٹس، اخراجات، بیرون ملک سفر، کریڈٹ اور اے ٹی ایم کارڈ کی معلومات ایف بی آر کے پاس موجود ہیں۔ایف بی آر مانیٹرنگ کے ذریعے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے سٹارز کا ڈیٹا چیک کرے گا، نان فائلرز جو مہنگی گاڑیوں، گھروں، کپڑوں اور جیولری کی نمائش کرتے ہیں وہ ایف بی آر کی گرفت میں آئیں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیکس نیٹ میں نہ آنے والے شوبز اور سوشل میڈیا سے جڑے بااثر افراد پر کڑی نظر رکھی جارہی ہے تاکہ قومی خزانے میں ٹیکس وصولی کو یقینی بنایا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: نان فائلرز سوشل میڈیا ایف بی ا ر کی نمائش
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔