Express News:
2026-07-24@05:51:19 GMT

پینٹاگون نے امریکی میڈیا پر سخت پابندیاں عائد کر دیں

اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT

واشنگٹن: امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے فوجی امور کی کوریج کرنے والے صحافیوں پر نئی سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق پینٹاگون کی جانب سے جاری ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ رپورٹرز کو حلف نامے پر دستخط کرنا ہوں گے جس میں یہ یقین دہانی کرائی جائے کہ وہ صرف وہی معلومات شائع کریں گے جنہیں باضابطہ طور پر جاری کرنے کی اجازت ہو۔ بصورت دیگر ان کے میڈیا کارڈ منسوخ کر دیے جائیں گے۔

نئے قواعد کے تحت خفیہ اور ’’کنٹرولڈ غیر خفیہ‘‘ دونوں طرح کی معلومات پر یہ پابندیاں لاگو ہوں گی۔ اس کے علاوہ رپورٹرز کو پینٹاگون کی عمارت میں آزادانہ نقل و حرکت کی بھی اجازت نہیں ہوگی اور انہیں صرف سرکاری اہلکار کے ہمراہ مخصوص مقامات تک رسائی ملے گی۔

وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر لکھا کہ ’’پریس پینٹاگون نہیں چلاتی، عوام چلاتے ہیں۔ صحافیوں کو اصولوں کی پابندی کرنی ہوگی ورنہ گھر جانا ہوگا‘‘۔

ان اقدامات کو امریکی صحافتی اداروں نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ نیویارک ٹائمز نے کہا کہ یہ عوامی ٹیکس پر چلنے والی فوجی سرگرمیوں تک رسائی محدود کرنے کا ایک اور خطرناک قدم ہے۔ نیشنل پریس کلب کے صدر مائیک بالسامو نے بھی ان پابندیوں کو ’’آزاد صحافت پر حملہ‘‘ قرار دیا اور فوری خاتمے کا مطالبہ کیا۔


 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم