انسداد دہشت گردی کی منتظم عدالت نے ٹاؤن چیئرمین فرحان غنی سمیت دیگر کیخلاف سرکاری ملازم پر تشدد کرنے کے مقدمے میں آئندہ سماعت پر گواہوں کو طلب کرلیا۔

کراچی سینٹرل جیل انسداد دہشتگردی کمپلیکس میں منتظم عدالت کے روبرو ٹاؤن چیئرمین فرحان غنی سمیت دیگر کیخلاف سرکاری ملازم پر تشدد کرنے کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔

فرحان غنی سمیت دیگر ملزمان پیش ہوئے، تفتیشی افسر اور طرفین کے وکلا بھی پیش ہوئے، عدالت نے استفسار کیا کہ کتنے گواہان کے بیانات ریکارڈ کئے گئے؟ اور کب کئے گئے؟ تفتیشی افسر نے کہا کہ 2 گواہان کے 161 کے بیانات 24 اگست کو ریکارڈ کئے گئے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ گواہان کے بیانات کے مطابق سرکاری کام بند کروایا گیا، وکیل صفائی نے درمیان میں بولنے کی کوشش کی، عدالت نے وکیل صفائی کو ہدایت کی صبر کا دامن تھام کر رکھیں، آپ کو موقع دیا جائے گا۔

عدالت نے وکیل صفائی سے استفسار کیا کہ 497-II بی انسداد دہشتگردی کی دفعات پر لاگو ہوتی ہے؟ ملزمان کو جس سیکشن کے تحت ضمانت پر رہا کیا گیا اور درخواست عدالت میں جمع کروائی گئی، وہ سیکشن کہاں ہے، دکھائیں؟ مدعی کے وکیل وہ قانون عدالت میں پیش کریں۔

وکیل صفائی نے مؤقف دیا کہ احاطہ عدالت میں کوئی غیر قانونی کام ہوگا تو پریزائڈنگ افسر اسے روکے گا۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ آپ کو چاہیے تھا کہ اگر کام چل رہا تھا تو پہلے اسے نوٹس دیتے، وکیل صفائی نے موقف دیا کہ اگر کوئی روڈ، گلیاں اور فٹ پاتھ کو نقصان پہنچا رہا ہے تو اس کو روکیں گے۔ ملزم گرفتار تھا تو نوٹس کیسے جاری کرتا۔ اگر عدالت چاہے تو 497-II بی کی درخواست منظور کرے یا پھر کارروائی کرے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آپ جذباتی ہورہے ہیں۔ وکیل صفائی نے موقف دیا کہ آپ نے کس سیکشن کے تحت ریمانڈ دیا، میں بھی کچھ سیکھنا چاہتا ہوں۔ عدالت نے کہا کہ ہم نے قانون کے مطابق ٹو ای  کے تحت ریمانڈ دیا، یہ رہا قانون۔

وکیل صفائی نے موقف دیا کہ زیر دفعہ 497 کے تحت اگر درخواست منظور نہیں ہوتی تو دہشتگردی کی دفعات ختم کردیں۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ آپ مدعی سمیت گواہوں کے زیر دفعہ 164 کے بیانات کروائیں اور لے آئیں۔

وکیل صفائی نے موقف دیا کہ سر کیا یہ کوئی بہت اہم کیس ہے جو اتنی باریکیاں دیکھی جارہی ہیں۔

پراسیکیوٹر نے موقف دیا کہ مقدمے کی شفاف تحقیقات کی گئی ہیں، سرکاری کام چل رہا تھا لیکن کوئی دہشتگردی نہیں ہوئی ہے، اس کیس میں انسداد دہشتگردی کا خصوصی قانون لاگو نہیں ہوگا، یہ اے ٹی سی کا کیس نہیں بنتا، ہم درخواست دے دیتے ہیں۔

عدالت نے ایک مرتبہ پھر تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ اب تک کتنے بیانات ریکارڈ کئے گئے؟ تفتیشی افسر نے کہا کہ 2 گواہان کے بیان لئے گئے پھر کمپرومائز ہوگیا۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ انسداد دہشتگردی قانون میں کمپرومائز کی گنجائش ہی نہیں ہے، مدعی کا بیان کس قانون کے تحت ریکارڈ کیا گیا۔

عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے قانون پڑھا ہے یا نہیں؟ پراسیکیوٹر نے موقف اپنایا کہ مدعی مقدمہ کا بیان نہیں دیکھتا، میں شواہد کی بات کررہا ہوں۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ ہم آئندہ سماعت پر مدعی مقدمہ کو طلب کرلیتے ہیں، مدعی کے وکیل مزمل قریشی نے موقف دیتے ہوئے عدالت کو آگاہ کیا کہ مدعی مقدمہ کا تعلق حساس ادارے سے ہے، مدعی کے بجائے گواہان کو عدالت میں پیش کردیتے ہیں۔

عدالت نے آئندہ سماعت پر گواہوں کو طلب کرتے ہوئے سماعت 30 ستمبر تک ملتوی کردی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: فرحان غنی سمیت دیگر انسداد دہشتگردی تفتیشی افسر کے بیانات عدالت میں گواہان کے کے تحت کیا کہ

پڑھیں:

کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار

ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن