اقوام متحدہ اجلاس؛ متعدد ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کرلیں گے؛ اسرائیل امریکا کا بائیکاٹ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر نیویارک میں رکن ممالک کا سربراہی اجلاس آج فرانس اور سعودی عرب کی میزبانی میں ہوگا جس میں 6 ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا باضابطہ اعلان کریں گے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق عالمی سربراہان کے اس اجلاس کا مقصد دو ریاستی حل کے لیے عالمی حمایت حاصل کرنا ہے۔ جس میں فرانس، بیلجیئم، لکسمبرگ، مالٹا، سان میرینو اور آندورا باضابطہ طور پر فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرلیں گے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل برطانیہ، کینیڈا، پرتگال اور آسٹریلیا بھی فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کرچکے ہیں۔
اسرائیل اور امریکا نے اس اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے جب کہ فلسطین اتھارٹی کے صدر محمود عباس بھی شریک نہیں ہو پائیں گے کیونکہ امریکا نے ویزے دینے سے انکار کر دیا۔
فلسطینی صدر محمود عباس اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کریں گے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان بھی اجلاس میں بذریعہ ویڈیو اپنی شرکت کو یقینی بنائیں گے۔
اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر ڈینی ڈینون نے کانفرنس کو "سرکس" قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دہشت گردی کو انعام دینے کے مترادف ہے۔
اسی طرح امریکی محکمہ خارجہ نے بھی مغربی ممالک کے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے اعلانات کو "محض نمائشی اقدامات" کرتے ہوئے کہا کہ ہماری ترجیح اسرائیل کی سیکیورٹی، یرغمالیوں کی رہائی اور خطے میں دیرپا امن ہے۔
مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ یہ وقت فیصلہ کن ہے اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو دو ریاستی حل ہمیشہ کے لیے دفن ہوسکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔