سپریم کورٹ: پنجاب حکومت کی اپیلیں خارج ، جبری ریٹائرڈ ملازمین کو پنشن دینے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
اسلام آباد:۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر ترین جج جسٹس سید منصورعلی شاہ نے قراردیا ہے کہ اگر بطور سزاکسی کوجبری طور پر ریٹائرڈ کریں گے تو10 سال سروس ہونے کی صورت میں اسے پنشن ملے گی۔ کہاں لکھا ہے کہ سزاہوجائے اور 20سال سروس نہ ہوتواُس کوپنشن نہیں ملے گی، اگر اتناہی مسئلہ ہے توپنجاب حکومت اپنے رولز میں ترمیم کرلے، موجودہ رولز کافائدہ تولوگو ںکودیں۔
بینچ نے پنجاب حکومت کی جانب سے دائر درخواستیں خارج کردیں۔ جسٹس سید منصورعلی شاہ کی سربراہی میں جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل 2رکنی بینچ نے سوموار کے روز جبری ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن نہ دینے کے معاملہ پر سیکرٹری خزانہ پنجاب، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ایڈمن ایس اینڈ جی اے ڈی ڈپارٹمنٹ لاہور اوردیگر کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سید انجم عباس، عمران حسین قریشی اور محمد یاسر کے خلاف دائر درخواستوںپرسماعت کی۔
درخواست گزاروں کی جانب سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب خالد مسعود غنی پیش ہوئے جبکہ مدعاعلیہان ذاتی حیثیت میں بینچ کے سامنے پیش ہوئے۔ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کاکہنا تھا کہ پنشن کے لئے مدعاعلیہان کی مطلوبہ سروس پوری نہیں تھی، مدعاعلیہان کو ڈسپلنری کارروائی کے بعد جبری طور پر ریٹائرڈ کیا گیا، مدعاعلیہان پر پنجاب سروس رولز 1963لاگو ہوتے ہیں، پنشن کے لئے کم ازکم سروس 20سال ہونی چاہیے ،جبکہ مدعاعلیہان میں سے ایک کی سروس14سال، ایک کی13سال اورایک کی 16سال ہے۔
جسٹس سید منصورعلی شاہ کاکہنا تھا کہ اگر بطور سزاکسی کوجبری طور پر ریٹائرڈ کریں گے تو10سال سروس ہونے کی صورت میں اسے پنشن ملے گی۔ جسٹس سید منصورعلی شاہ کاکہنا تھا کہ کہاں لکھا ہے کہ سزاہوجائے اور 20سال سروس نہ ہوتواُس کوپنشن نہیں ملے گی، اگر اتناہی مسئلہ ہے توپنجاب حکومت اپنے رولز میں ترمیم کرلے، موجودہ رولز کافائدہ تولوگو ںکودیں۔
جسٹس سید منصورعلی شاہ کاکہنا تھا کہ ایکٹ رولز کوروک نہیں رہا، اگرتبدیل کرنے ہیں تورولز تبدیل کرلیں، رولز میں ترمیم کرنی ہے توکرلیں۔ بینچ نے پنجاب حکومت کی جانب سے دائر درخواستیں خارج کردیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: جسٹس سید منصورعلی شاہ پنجاب حکومت کی جانب سے ملے گی
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں