اقوام متحدہ: فلسطینی صدر کی غزہ میں فوری جنگ بندی کی اپیل
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
فلسطینی صدر محمود عباس نے اقوام متحدہ میں منعقدہ فلسطین کانفرنس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے اہم مطالبے پیش کیے ہیں۔ انہوں نے غزہ میں فوری جنگ بندی کا اعلان کرنے اور حماس سے ہتھیار ڈالنے کی اپیل کی ہے۔
صدر عباس نے زور دے کر کہا کہ ’’ہم ہتھیاروں کے بغیر متحد فلسطینی ریاست چاہتے ہیں۔‘‘ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب متعدد مغربی ممالک نے فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے جنگ بندی کے لیے قطر اور مصر کی ثالثی کو خوش آئند قرار دیا۔
انہوں نے امن عمل کے حوالے سے ایک واضح روڈ میپ پیش کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کے تین ماہ کے اندر ایک عبوری آئین تیار کیا جائے گا، جس کے بعد انتخابات منعقد کرائے جائیں گے۔ صدر عباس نے واضح کیا کہ اس عمل کے بعد حماس کا فلسطینی گورننس میں کوئی کردار نہیں ہوگا، اور تنظیم کو اپنے ہتھیار فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرنے چاہئیں۔
صدر محمود عباس نے ان 149 ممالک کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے فلسطین کو ریاست تسلیم کیا ہے، اور دیگر ممالک سے اپیل کی کہ وہ بھی جلد از جلد فلسطین کی ریاستی حیثیت کو تسلیم کریں۔ انہوں نے زور دیا کہ بین الاقوامی برادری کے تعاون سے ہی فلسطینی عوام کے حقوق کا تحفظ ممکن ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔