اے این ایف کا منشیات اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن، 8 ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
اے این ایف کا تعلیمی اداروں کے اطراف اور ملک کے مختلف شہروں میں منشیات اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے جس کے دوران مزید 8 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔
ترجمان اے این ایف کے مطابق ان کاروائیوں میں 12کروڑ 45لاکھ روپے سے زائد مالیت کی 115کلوگرام منشیات برآمد کی گئی، کامرہ روڈ اٹک کے قریب ملزم کے قبضے سے 2.
ترجمان کے مطابق جھنگ روڈ فیصل آباد کے قریب ملزم کے قبضے سے 300 گرام آئس برآمد ہوئی جب کہ گرفتار ملزمان نے تعلیمی اداروں کے طلباء کو منشیات فروخت کرنے کا اعتراف کیا۔
دیگر کارروائیوں میں جناح ایئرپورٹ پر دبئی جانیوالے مسافر کے سامان سے 290الپرازولم، 400 ریوٹریل،400 لیکسوٹینل اور 150والیم گولیاں برآمد ہوئیں جن کا کل وزن 383 گرام تھا۔
کراچی میں واقع کوریئر آفس میں دبئی جانیوالے پارسل سے105000 ٹراماڈول گولیاں ،7500 زینیکس گولیاں ،17000 والیم گولیاں برآمد کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا گیا۔
موٹر وے ٹول پلازہ اسلام آباد کے قریب بس میں سوار ملزم کے قبضے سے 13.5 کلو گرام پوپی کا بھوسہ، نیشنل ہائی وے حیدر آباد کے قریب بس میں سوار ملزم کے قبضے سے 9.6 کلوگرام چرس، موٹر وے ٹول پلازہ اسلام آباد کے قریب گرفتار ملزم کی گاڑی سے 1.8 کلو گرام چرس اور بوستان روڑ پشین کے قریب 86 کلو گرام ہیروئن برآمد کی گئی۔
ترجمان اے این ایف نے کہا کہ ملزمان کے خلاف انسداد منشیات ایکٹ کے تحت مقدمات درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ملزم کے قبضے سے آباد کے قریب اے این ایف
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔