ڈالر آج کتنا سستا ہوا ؟
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
انٹربینک مارکیٹ میں منگال کے روز امریکی ڈالر کی قدر میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی، جہاں ڈالر تین پیسے سستا ہو کر 281 روپے 42 پیسے پر بند ہوا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق یہ کمی وقتی نوعیت کی ہے، جس کی بنیادی وجہ درآمدی طلب میں کمی اور بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ میں جزوی کمی ہے۔ فاریکس ڈیلرز کا کہنا ہے کہ اگرچہ ڈالر کی قیمت میں اتار چڑھاؤ جاری ہے، تاہم حالیہ دنوں میں امریکی کرنسی روپے کے مقابلے میں نسبتاً مستحکم دکھائی دے رہی ہے۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام، ترسیلات زر میں اضافہ اور برآمدات سے ہونے والی وصولیاں کرنسی کے اتار چڑھاؤ پر اثرانداز ہو رہی ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز ڈالر کی کم ترین سطح 281 روپے 38 پیسے جبکہ بلند ترین سطح 281 روپے 48 پیسے رہی۔
کرنسی ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں روپے کی قدر کا براہ راست انحصار زرمبادلہ کے ذخائر اور بیرونی ادائیگیوں پر ہوگا۔ اسٹیٹ بینک نے واضح کیا ہے کہ حکومت روپے کو مصنوعی سہارا دینے کے بجائے مارکیٹ کے حقیقی تقاضوں کے مطابق شرح تبادلہ آگے بڑھا رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔