بلوچستان بورڈ آف انویسمنٹ اینڈ ٹرید اورمحکمہ ماہی گیری میں باہمی سمجھوتا طے پا گیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
250924-11-6
کوئٹہ(نمائندہ جسارت)بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ اور محکمہ ماہی گیری میں باہمی سمجھوتا طے پا گیا۔۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ ماہی گیری، زراعت اور مائننگ سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع دستیاب ہیں، جس سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے نئے مواقع میسر آئیں گے۔کوئٹہ میں وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ میں بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ اور محکمہ ماہی گیری کے درمیان معاہدے پر دستخط کی تقریب منعقد ہوئی۔ اس موقع پروزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی، صوبائی وزرا اوراعلیٰ حکام شریک تھے۔تقریب میں 5 ارب روپے کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا گیا، جسے صوبے کی معیشت کے لیے سنگ میل قرار دیا گیا۔وزیر اعلیٰ بلوچستان نے معاہدے کو صوبے کے دیرینہ خواب کی عملی تعبیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ سرمایہ کاری سے بلوچستان میں ترقی اور خوشحالی کا نیا باب کھلے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ صوبے کو پرامن اور سرمایہ کار دوست صوبہ بنایا جا رہا ہے اور یہ منصوبے نوجوانوں کے مستقبل کو روشن اور محفوظ بنائیں گے۔وزیر اعلیٰ نے بورڈ آف انویسٹمنٹ کے وائس پریزیڈنٹ بلال کاکڑ اور ان کی ٹیم کو کامیاب کوششوں پر خراج تحسین بھی پیش کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ماہی گیری
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔