Nawaiwaqt:
2026-06-03@03:51:17 GMT

عالمی برادری اسرائیل کو انصاف کے کٹہرے میں لائے: اسحاق ڈار

اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT

عالمی برادری اسرائیل کو انصاف کے کٹہرے میں لائے: اسحاق ڈار

نیویارک‘ اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ + خبر نگار خصوصی) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور مسئلہ فلسطین پر اجلاس ہوا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے خطاب میں کہا ہے کہ غزہ میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔ غزہ میں انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے۔ غزہ میں انسانی المیہ جنم لے چکا ہے۔ دس لاکھ لوگ غزہ میں بے گھر ہو چکے ہیں۔ غزہ میں عالمی قوانین کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ غزہ تک امداد کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ پاکستان فلسطینی عوام کے لئے غیر متزلزل حمایت کا اظہار کرتا ہے۔ عالمی برادری اسرائیل کو انصاف کے کٹہرے میں لے کر آئے۔ علاوہ ازیں  نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس کے موقع پر ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان سے ملاقات کی۔ اس موقع پر ترکیہ کے وزیر خارجہ  حقان فیدان بھی موجود تھے۔ منگل کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات انتہائی مضبوط ہیں اور ہم انہیں مزید بلند سٹرٹیجک سطح پہ لے جانے کے خواہاں ہیں۔ دریں اثناء پاکستان نے فلسطینی ریاست کو فرانس، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، بیلجیئم اور پرتگال کی جانب سے تسلیم کرنے کا خیرمقدم کیا ہے۔ نائب وزیراعظم  اور  وزیرخارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے مطالبہ کیا کہ وہ تمام ممالک جنہوں نے فلسطین کو تاحال تسلیم نہیں کیا وہ بین الاقوامی قانون کے تحت ریاست فلسطین کو تسلیم کریں۔ سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں لکھا کہ  انہوں نے فلسطین کے دو ریاستی حل سے متعلق اعلی سطح کی کانفرنس میں شرکت کی ہے جو کہ فرانس اور سعودی عرب کی جانب سے مشترکہ طور پر منعقد کی گئی۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جنہوں نے فلسطینی ریاست کو 1988 ء میں آزادی کے اعلان کے فوری بعد تسلیم کیا تھا۔ فلسطین ریاست کو تسلیم کیا جانا اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت فلسطینی عوام کا قانونی حق ہے۔ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ان ممالک کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا جانا خطے میں منصفانہ، جامع اور دیرپا امن کی جانب قدم ہے۔ دریں اثنا نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند سے ملاقات ہوئی جس میں دوطرفہ تعلقات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار اور انیتا آنند نے دوطرفہ تعلقات پر اظہار اطمینان کیا اور تجارت و اقتصادی تعلقات مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا۔ جبکہ اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے موقع پر  خلیج تعاون  کونسل (جی سی سی ) کے سیکرٹری جنرل جاسم محمد البدایوی سے ملاقات کی۔ اسحاق ڈار اور شام کے صدر احمد الشرع میں ملاقات ہوئی جس میں دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے احمد الشرع سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان اور شام کی دوستی کو مزید مضبوط بنائیں گے، شام کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے نیویارک میں ہنگری کے ہم منصب پیٹرز یجارتو سے ملاقت کی۔ پاکستان اور ہنگری نے تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ پاکستان اور ہنگری نے تجارت اور سرمایہ کاری روابط بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ہنگری کے وزیر خارجہ نے پاکستان کی حمایت اور ذاتی دلچسپی پر وزیراعظم اور اسحاق ڈار کا شکریہ ادا کیا۔ دونوں ملکوں نے سرمایہ کاری کے تحفظ کے معاہدے کو جلد حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا۔ شہری ہوابازی میں تعاون اور براہ راست پروازیں شروع کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ سفارتی و سرکاری پاسپورٹ ہولڈرز کے لئے ویزا فری معاہدے کی تکمیل پر زور دیا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستانی طلباء کو 400 سکالرشپس دینے پر ہنگری حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ہنگری وزیر خارجہ نے تعلیم کے مزید مواقع فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: کہا کہ پاکستان اسحاق ڈار نے پاکستان اور اقوام متحدہ نے فلسطین ریاست کو کی جانب

پڑھیں:

اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا شہزادہ رحیم کے دورۂ گلگت بلتستان کے الیکشن پر اثرات

اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا شہزادہ شاہ رحیم الحسینی نے اپنے سرکاری دورۂ پاکستان کے دوران گلگت بلتستان اور چترال میں مریدوں سے اہم ملاقات کی ہیں تاہم ان کا یہ دورہ ایک ایسے وقت ہوا جب گلگت بلتستان میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔

شہزادہ شاہ رحیم الحسینی امامت سنبھالنے کے بعد پہلی بار 20 مئی کی شام اسلام آباد کے نور خان ایئر بیس پر پہنچے تو ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ صدر آصف علی زرداری اور خاتونِ اوّل نے نور خان ایئر بیس پر ان کا پرتپاک استقبال کیا اور ایوانِ صدر میں ان کے اعزاز میں عشائیہ دیا جبکہ اگلی صبح وزیراعظم نے انہیں ناشتے پر مدعو کیا۔ پرنس شاہ رحیم 22 مئی کو گلگت بلتستان پہنچے اور مریدوں سے ملاقات اور دیدار کا سلسلہ شروع ہوا۔

پرنس شاہ رحیم کا دورہ اور گلگت بلتستان الیکشن

اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا کا امامت سنبھالنے کے بعد پاکستان کا یہ پہلا دورہ تھا۔ ان کے دورے کا باضابطہ اعلان ہوتے ہی گلگت بلتستان اور چترال میں ان کے مریدوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور جشن کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

پرنس رحیم نے ایک ایسے وقت میں گلگت بلتستان میں اپنے مریدوں سے ملاقات کی جب وہاں عام انتخابات کے لیے انتخابی مہم شروع تھی۔ اسماعیلی برادری کے دورے کا سیاست اور الیکشن سے کوئی تعلق ہے نہ ہی انہوں نے سیاست پر کوئی بات کی۔ انہوں نے اپنے مریدوں سے خطاب میں تعلیم، معاشیات، ہنر، موسمیاتی تبدیلی اور جدید دور کے تقاضوں پر بات کی، تاہم اس کے باوجود کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ ان کے دورے کا الیکشن پر کچھ حد تک بالواسطہ اثر پڑ سکتا ہے۔

مریدوں کا جھکاؤ کس طرف ہو گا؟

آغا خان کے دورے اور گلگت بلتستان الیکشن پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کے مطابق بظاہر آغا خان پنجم کے دورے کا الیکشن پر کوئی اثر نظر نہیں آ رہا۔ ان کے مطابق آغا خان کا خاندان غیر سیاسی ہے اور کبھی انہوں نے کسی ملک کی سیاست یا انتخابات پر بات کی ہے نہ ہی اثر انداز ہونے کی کوشش کی ہے۔ حالیہ دورے کے دوران بھی انہوں نے کہیں بھی سیاست پر بات نہیں کی۔

یہ بھی پڑھیں:پرنس رحیم آغا خان کا پہلا سرکاری دورۂ پاکستان مکمل، خیرسگالی اور یکجہتی کا پیغام

نوجوان صحافی کامران علی جنہوں نے آغا خان پنجم کے دورے کی کوریج کی، کا کہنا ہے کہ پرنس رحیم نے اپنے مریدوں سے خطاب میں سیاست پر ایک لفظ بھی نہیں کہا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ آغا خان نے سیاست پر بات نہیں کی، لیکن جن رہنماؤں نے ان کا استقبال کیا اور عزت دی، ان کا گراف مریدوں کی نظر میں بلند ہو گیا۔ ’گلگت بلتستان میں اسماعیلی برادری کی خاصی آبادی ہے اور ان کے ووٹ کسی کی بھی جیت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں‘۔

کامران علی کے مطابق پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اپنی بیٹی اور خاتونِ اول کے ساتھ خود نور خان ایئر بیس گئے اور آغا خان کا استقبال کیا۔ جب وہ ایوانِ صدر پہنچے تو بلاول بھٹو زرداری نے بھی ان کا خیر مقدم کیا۔

کامران علی نے بتایا کہ جب آغا خان شاہ رحیم الحسینی کے والد شاہ کریم الحسینی کا انتقال ہوا تھا تو اس وقت صدر پاکستان آصف علی زرداری تعزیت کے لیے پرتگال گئے تھے۔ ’اگرچہ آغا خان کا سرکاری سطح پر استقبال کیا جاتا ہے، لیکن آصف علی زرداری کی اہمیت مریدوں کی نظر میں بڑھ گئی ہے‘۔

کامران نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے بھی اسے سیاسی طور پر استعمال نہیں کیا، لیکن مرید سب کچھ دیکھ رہے ہیں اور امام کی عزت و وقار کے لیے وہ سب کچھ کرنے کو تیار ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں:گلگت بلتستان الیکشن میں کس کا پلہ بھاری ہے؟

ان کاکہنا ہے کہ ’میرے خیال میں اگر آغا خان کے دورے کا سیاسی سطح پر کوئی فائدہ ہوا تو وہ پیپلز پارٹی کو ہو گا، کیونکہ انہوں نے اس دورے کو سب سے زیادہ اہمیت دی۔ وفاق میں صدر، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کے گورنرز نے ان کا بھرپور استقبال کیا‘۔

آغا خان کے دورے کا فائدہ کس حد تک ہو گا؟

اسماعیلی برادری سے تعلق رکھنے والوں کا خیال ہے کہ اس دورے کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ذاکر خان کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے اور وہ اپنے امام کے دیدار کے لیے کراچی سے گئے تھے، نے بتایا کہ اس دورے کے دوران کہیں بھی انہوں نے سیاست پر بات نہیں کی۔

ذاکر کے مطابق پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے جس طرح آغا خان کا استقبال کیا اور عزت دی، اس سے ان کی نظروں میں ان کی اہمیت بڑھ گئی۔

ان کے مطابق پیپلز پارٹی نے ابھی تک اسے سیاسی طور پر استعمال نہیں کیا۔ ذاکر کا خیال ہے کہ اس دورے سے وہی فائدہ اٹھا سکتے ہیں جنہوں نے دورے کے دوران پیش پیش رہ کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی ہو۔ ’اسماعیلی برادری کے لوگ تعلیم یافتہ ہیں، وہ میرٹ پر یقین رکھتے ہیں اور ووٹ بھی میرٹ پر ہی دیتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی طرف جھکاؤ بڑھ سکتا ہے، لیکن دیگر جماعتوں سے بھی اسماعیلی امیدوار میدان میں ہیں۔ ’اسماعیلی برادری سے تعلق رکھنے والے امیدوار جماعت کے دفاتر یا دیگر نجی ملاقاتوں میں اس دورے کا ذکر کرتے ہیں اور اپنی جماعت کی طرف سے امام کو دیے گئے عزت و احترام کو ووٹرز کو متاثر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں‘۔

یہ بھی پڑھیں:تعلیم، برداشت اور اخلاقی رویوں سے انسانیت کی خدمت کی جائے، پرنس رحیم آغا خان کا  گلگت میں خطاب

انہوں نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری الیکشن مہم کے سلسلے میں گلگت بلتستان میں موجود ہیں جبکہ نواز شریف بھی وہاں پہنچے ہیں۔ دونوں جماعتوں نے آغا خان کو بہت عزت دی، لیکن الیکشن مہم میں اس کا ابھی تک براہِ راست ذکر نہیں کیا گیا۔ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ جس جماعت نے امام کو عزت دی ہے، اس کا گراف اسماعیلی برادری میں بلند ہو گیا ہے تاہم یہ مقامی امیدواروں پر ہے کہ وہ اسے کیسے کیش کرتے ہیں‘۔

ذاکر نے بتایا کہ اس دورے کو سیاست کے ساتھ منسلک کرنے سے سیاسی امیدواروں اور جماعتوں کو نقصان کا خطرہ بھی ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق اسماعیلی برادری کے لوگ مذہب کو سیاست سے الگ رکھتے ہیں اور موقع پرستوں کو پسند نہیں کرتے۔

سیاست سے کوئی تعلق نہیں، تمام امیدواروں کے لیے نیک خواہشات

اسماعیلی کونسل گلگت کی امورِ عامہ و سیکیورٹی کمیٹی نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ کونسل ایک غیرسیاسی اور غیرجانبدار ادارہ ہے اور گلگت بلتستان اسمبلی کی جاری انتخابی مہم میں کسی سیاسی جماعت، امیدوار یا انتخابی گروپ کی حمایت یا مخالفت نہیں کرتی۔

مقامی نیوز ویب سائٹ پامیر ٹائمز کے مطابق انتخابات سے قبل جاری بیان میں کمیٹی نے کہا کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندے اور آزاد امیدوار پورے خطے میں انتخابی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ اسماعیلی کونسل ایک امامت کا ادارہ ہے جو سیاسی معاملات میں سخت غیرجانبداری برقرار رکھتی ہے اور کسی امیدوار یا جماعت کی توثیق نہیں کرتی۔

اسماعیلی کونسل نے یہ بیان اس وقت جاری کیا جب اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا شاہ رحیم الحسینی گلگت بلتستان کا دورہ مکمل کر کے واپس روانہ ہو گئے۔

بیان میں کونسل نے تمام سیاسی جماعتوں، ان کے نمائندوں اور آزاد امیدواروں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ انتخابی عمل جمہوری اقدار، باہمی احترام، قانون کی حکمرانی اور پرامن ماحول کے مطابق ہوگا۔

مزید پڑھیں:وزیرِ اعظم شہباز شریف اور پرنس رحیم آغا خان کی ملاقات، آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کو وسعت دینے پر زور

بیان میں مزید زور دیا گیا کہ ہر اسماعیلی ووٹر اپنے ضمیر، سیاسی سمجھ بوجھ اور ذاتی رائے کے مطابق آئینی حقِ رائے دہی استعمال کرنے کے لیے آزاد ہے۔ اس پر زور دیا گیا کہ کونسل کسی فرد یا گروہ کو کسی خاص سیاسی جماعت یا امیدوار کی حمایت یا مخالفت کی ہدایت نہیں دیتی۔

اسماعیلی کونسل نے کمیونٹی کے افراد پر زور دیا کہ وہ انتخابی مدت کے دوران احترام، اتحاد، رواداری اور ذمہ دارانہ رویہ برقرار رکھیں، سیاسی وابستگیوں کو ذاتی معاملہ سمجھیں اور کمیونٹی کے اتحاد کو ترجیح دیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آصف علی زرداری آصفہ بھٹو آغا الیکشن بلتستان پرنس پرنس رحیم آغا پیپلز پارٹی دورہ پاکستان رحیم عام انتخابات گلگت

متعلقہ مضامین

  • اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا شہزادہ رحیم کے دورۂ گلگت بلتستان کے الیکشن پر اثرات
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار