غزہ جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی ڈرون حملے، ویڈیوز سامنے آگئیں
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
غزہ جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی ڈرون حملے، ویڈیوز سامنے آگئیں WhatsAppFacebookTwitter 0 24 September, 2025 سب نیوز
غزہ پر اسرائیلی محاصرہ توڑنے کے لیے روانہ ہونے والے عالمی قافلے ’’گلوبل صمود فلوٹیلا‘‘ پر ڈرون حملے کی ویڈیو منظرِ عام پر آگئی ہے۔ درجنوں کشتیوں پر مشتمل یہ قافلہ اس وقت یونان کے ساحل کے قریب بین الاقوامی آبی راستے سے غزہ کی جانب بڑھ رہا ہے جس میں دنیا بھر کے کارکنان اور رہنما شریک ہیں، ان میں پاکستان کے ایوانِ بالا کے سابق رکن سینیٹ مشتاق احمد بھی شامل ہیں۔
گلوبل صمود فلوٹیلا منتظمین کے مطابق کئی ڈرونز نے کشتیوں کو نشانہ بنایا، نامعلوم اشیاء گرائی گئیں، دھماکے کیے گئے اور کمیونیکیشن سسٹم جام کر دیا گیا۔
گلوبل صمود فلوٹیلا کے اعلامیے میں کہا گیا کہ ’ہم اس وقت اپنی آنکھوں سے یہ نفسیاتی جنگ دیکھ رہے ہیں، لیکن ہم خوفزدہ نہیں ہوں گے۔‘
جرمن انسانی حقوق کی کارکن یاسمین آکار نے انسٹاگرام پر ویڈیو میں بتایا کہ پانچ کشتیوں پر حملہ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے 15 سے 16 ڈرونز دیکھے، ریڈیو جام کر دیے گئے اور اونچی موسیقی چلائی گئی۔‘
فلوٹیلا کے آفیشل پیج پر جاری ویڈیوز میں ایک کشتی پر دھماکہ واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
برازیل کے کارکن تھییاگو آویلا نے بھی ویڈیو میں بتایا کہ چار کشتیوں کو ڈرونز سے پھینکے گئے ڈیوائسز سے نشانہ بنایا گیا، جس کے فوراً بعد ایک اور دھماکہ سنا گیا۔
کل رات 15 ڈرونز اور 10 حملے ۔۔۔لیکن ہمارا عزم توانا ہے،ہم جھکیں گے نہیں، ہمارا حوصلہ بلند ہے اور ہم غزہ پہنچ کر رہینگے ان شاءاللہ۔
گلوبل صمود فلوٹیلا برائے غزہ کے پرامن، قانونی انسانی امدادی کاروان پر اسرائیلی نسل پرست ناجائز ریاست کی ڈرون حملوں کا عالمی برادری نوٹس لے۔حکومت… pic.
سابق سینیٹر مشتاق احمد نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں بتایا کہ رات گئے پرامن فلوٹیلا پر دس اسرائیلی ڈرونز نے حملہ کیا، بارودی مواد اور آگ کے گولے پھینکے گئے جبکہ ایک خطرناک کیمیکل بھی استعمال کیا گیا جسے سونگھنے اور چھونے سے نقصان پہنچتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ سب کچھ فلوٹیلا کو ڈرانے اور روکنے کی نفسیاتی جنگ ہے لیکن ہمارا عزم پختہ ہے اور ہم ان شاء اللہ غزہ ضرور پہنچیں گے۔
مشتاق احمد نے کہا کہ اسرائیلی نسل پرست ناجائز ریاست کی دہشت گردی اور بدمعاشی نے دنیا کو یرغمال بنا رکھا ہے، اس لیے بین الاقوامی برادری کو فوری نوٹس لینا چاہیے۔
انہوں نے حکومتِ پاکستان اور وزیراعظم شہباز شریف سے اپیل کی کہ اس معاملے کو اقوامِ متحدہ، او آئی سی اور تمام عالمی فورمز پر اٹھایا جائے۔
مشتاق احمد نے رات گئے کشتی پر اسرائیلی ڈرون حملے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر شیئر کی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا مقصد غزہ کا محاصرہ ختم کرنا اور وہاں انسانی بنیادوں پر امداد پہنچانا ہے، جو اصل میں او آئی سی کا کام تھا لیکن اب گلوبل صمود فلوٹیلا یہ فریضہ انجام دے رہا ہے۔
رواں ماہ کے آغاز میں بھی گلوبل صمود فلوٹیلا نے دعویٰ کیا تھا کہ تیونس کے قریب ان پر ڈرون حملے ہوئے، تاہم اس وقت تیونس کی وزارت داخلہ نے ان اطلاعات کی تردید کی تھی۔
یہ فلوٹیلا، جس میں سیکڑوں سرگرم کارکن شامل ہیں، اسپین کے شہر بارسلونا سے اگست کے آخر میں غزہ کا محاصرہ توڑنے کے مقصد کے تحت روانہ ہوا تھا۔ اس میں دنیا بھر سے شریک افراد کے ساتھ سویڈن کی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ بھی شامل ہیں۔
فلوٹیلا اس وقت 51 کشتیوں پر مشتمل ہے جن میں سے زیادہ تر یونان کے جزیرے کریٹ کے قریب موجود ہیں۔
اسرائیل نے پیر کو دوٹوک اعلان کیا کہ وہ کسی صورت اس فلوٹیلا کو غزہ تک پہنچنے نہیں دے گا۔ یاد رہے کہ جون اور جولائی میں بھی اسرائیل نے ایسے ہی دو بحری قافلوں کو غزہ جانے سے روک دیا تھا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپنجاب سے دوسرے صوبوں کو آٹا سمگل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی پنجاب سے دوسرے صوبوں کو آٹا سمگل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی اسلام آباد ہائی کورٹ کا سی ڈی اے کو پلاٹ قبضے کے لیے آخری انتباہ وزیراعظم سے ملاقات: ورلڈبینک کے صدر پاکستان کے اصلاحاتی اقدامات کے معترف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وزیر اعظم شہباز شریف کی غیر رسمی ملاقات امریکی صدر امن کے داعی، دنیا بھر میں امن قائم کرنا چاہتے ہیں: وزیراعظم شہباز شریف آئی سی سی نے یو ایس اے کرکٹ کی رکنیت معطل کر دی، اولمپک خوابوں کے تحفظ کے لیے اقداماتCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: گلوبل صمود فلوٹیلا اسرائیلی ڈرون پر اسرائیلی ڈرون حملے
پڑھیں:
بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
اسلام آباد:وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔
بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔