WE News:
2026-07-24@10:23:56 GMT

غزہ امدادی فلوٹیلا پر ڈرون حملے، دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں

اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT

غزہ کے لیے امداد اور فلسطین دوست کارکنوں کو لے جانے والے بیڑے فلوٹیلا کے منتظمین نے منگل کی شب بتایا کہ یونان کے قریب موجود ان کی متعدد کشتیوں کو ڈرونز نے نشانہ بنایا اور دھماکے سنے گئے۔

گلوبل صمود فلوٹیلا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ متعدد ڈرونز، نامعلوم اشیاء گرائی گئیں، مواصلاتی نظام جام ہوا اور کئی کشتیوں سے دھماکوں کی آوازیں آئیں، بیان میں ہلاکتوں یا زخمیوں کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ کے خلاف کسی پرتشدد اقدام سے گریز کیا جائے، پاکستان سمیت 16 مسلم ممالک کا انتباہ

فلوٹیلا کے مطابق یہ سب ’نفسیاتی کارروائیاں‘ ہیں مگر کارکنان خوف زدہ نہیں ہوں گے۔

جرمن انسانی حقوق کی کارکن یاسمین آکار نے انسٹاگرام پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں کہا کہ 5 کشتیوں پر حملہ ہوا ہے۔

10+ boats boomed, heaps of drones still whizzing around

???? samuel.

leason (IG) pic.twitter.com/Eqd47qyEUt

— Global Sumud Flotilla Commentary (@GlobalSumudF) September 24, 2025

’ہمارے پاس صرف انسانی امداد ہے، کوئی ہتھیار نہیں۔ ہم کسی کے لیے خطرہ نہیں، اصل میں اسرائیل ہی ہے جو ہزاروں لوگوں کو قتل کر رہا ہے اور پوری آبادی کو بھوکا رکھ رہا ہے۔‘

ایک اور ویڈیو میں آکار نے دعویٰ کیا کہ کارکنان نے 15 سے 16 ڈرونز کو دیکھا اور ان کے ریڈیو جام کر دیے گئے، جبکہ اونچی آواز میں موسیقی بجائی جا رہی تھی۔

فلوٹیلا کے آفیشل انسٹاگرام پیج پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں رات گئے اسپیکٹر نامی ایک کشتی کے قریب دھماکے کی ریکارڈنگ دکھائی گئی۔

مزید پڑھیں: تیونس کی بحری حدود میں غزہ امدادی فلوٹیلا پر مبینہ ڈرون حملہ

برازیلی کارکن تھییاگو اویلا نے کہا کہ 4 کشتیوں کو ڈرونز نے ’آلات پھینک کر‘ نشانہ بنایا، اور اسی دوران پس منظر میں ایک اور دھماکا سنا گیا۔

گلوبل صمود فلوٹیلا اس ماہ کے آغاز میں بارسلونا سے روانہ ہوئی تھی تاکہ اسرائیل کی ناکہ بندی کو توڑ کر غزہ کے لیے امداد پہنچائی جا سکے۔

اس وقت یہ بیڑا 51 کشتیوں پر مشتمل ہے، جن میں سے زیادہ تر یونان کے جزیرے کریٹ کے قریب موجود ہیں۔

مزید پڑھیں:غزہ جانے والے امدادی بیڑے کو ناکہ بندی توڑنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اسرائیل

اس سے قبل تیونس میں بھی اس بیڑے پر مشتبہ ڈرون حملے کیے گئے تھے، جب یہ اپنی اگلی منزل کی طرف روانہ ہونے سے پہلے وہاں لنگر انداز تھا۔

اس بیڑے میں ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ سمیت کئی نمایاں شخصیات شامل ہیں۔

اسرائیل نے پیر کو کہا تھا کہ وہ ان کشتیوں کو غزہ پہنچنے کی اجازت نہیں دے گا۔

مزید پڑھیں: امریکا نے غزہ جنگ بندی قرارداد ویٹو کر دی، پاکستان اور حماس کا شدید ردعمل

جون اور جولائی میں بھی اسرائیل نے کارکنان کی جانب سے غزہ پہنچنے کی 2 کوششیں ناکام بنا دی تھیں۔

غزہ پر اسرائیلی جنگ کے باعث اسرائیل عالمی دباؤ کا شکار ہے، جہاں انسانی بحران شدید تر ہو گیا ہے۔

گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ ایک ادارے نے غزہ کے بعض حصوں میں قحط کی باضابطہ تصدیق کی تھی، جبکہ 16 ستمبر کو اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں نے اسرائیل پر ’نسل کشی‘ کا الزام عائد کیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل اقوام متحدہ انسانی حقوق ڈرونز غزہ فلوٹیلا قحط گریٹا تھنبرگ مواصلاتی نظام نسل کشی یونان

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل اقوام متحدہ فلوٹیلا گریٹا تھنبرگ مواصلاتی نظام یونان کے لیے

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے 28 افراد جاں بحق، 29 زخمی
  • انسانی حقوق کا مغربی تصور سیرت طیبہؐ کی روشنی میں
  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم