غزہ امدادی فلوٹیلا پر ڈرون حملے، دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
غزہ کے لیے امداد اور فلسطین دوست کارکنوں کو لے جانے والے بیڑے فلوٹیلا کے منتظمین نے منگل کی شب بتایا کہ یونان کے قریب موجود ان کی متعدد کشتیوں کو ڈرونز نے نشانہ بنایا اور دھماکے سنے گئے۔
گلوبل صمود فلوٹیلا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ متعدد ڈرونز، نامعلوم اشیاء گرائی گئیں، مواصلاتی نظام جام ہوا اور کئی کشتیوں سے دھماکوں کی آوازیں آئیں، بیان میں ہلاکتوں یا زخمیوں کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ کے خلاف کسی پرتشدد اقدام سے گریز کیا جائے، پاکستان سمیت 16 مسلم ممالک کا انتباہ
فلوٹیلا کے مطابق یہ سب ’نفسیاتی کارروائیاں‘ ہیں مگر کارکنان خوف زدہ نہیں ہوں گے۔
جرمن انسانی حقوق کی کارکن یاسمین آکار نے انسٹاگرام پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں کہا کہ 5 کشتیوں پر حملہ ہوا ہے۔
10+ boats boomed, heaps of drones still whizzing around
???? samuel.
— Global Sumud Flotilla Commentary (@GlobalSumudF) September 24, 2025
’ہمارے پاس صرف انسانی امداد ہے، کوئی ہتھیار نہیں۔ ہم کسی کے لیے خطرہ نہیں، اصل میں اسرائیل ہی ہے جو ہزاروں لوگوں کو قتل کر رہا ہے اور پوری آبادی کو بھوکا رکھ رہا ہے۔‘
ایک اور ویڈیو میں آکار نے دعویٰ کیا کہ کارکنان نے 15 سے 16 ڈرونز کو دیکھا اور ان کے ریڈیو جام کر دیے گئے، جبکہ اونچی آواز میں موسیقی بجائی جا رہی تھی۔
فلوٹیلا کے آفیشل انسٹاگرام پیج پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں رات گئے اسپیکٹر نامی ایک کشتی کے قریب دھماکے کی ریکارڈنگ دکھائی گئی۔
مزید پڑھیں: تیونس کی بحری حدود میں غزہ امدادی فلوٹیلا پر مبینہ ڈرون حملہ
برازیلی کارکن تھییاگو اویلا نے کہا کہ 4 کشتیوں کو ڈرونز نے ’آلات پھینک کر‘ نشانہ بنایا، اور اسی دوران پس منظر میں ایک اور دھماکا سنا گیا۔
گلوبل صمود فلوٹیلا اس ماہ کے آغاز میں بارسلونا سے روانہ ہوئی تھی تاکہ اسرائیل کی ناکہ بندی کو توڑ کر غزہ کے لیے امداد پہنچائی جا سکے۔
اس وقت یہ بیڑا 51 کشتیوں پر مشتمل ہے، جن میں سے زیادہ تر یونان کے جزیرے کریٹ کے قریب موجود ہیں۔
مزید پڑھیں:غزہ جانے والے امدادی بیڑے کو ناکہ بندی توڑنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اسرائیل
اس سے قبل تیونس میں بھی اس بیڑے پر مشتبہ ڈرون حملے کیے گئے تھے، جب یہ اپنی اگلی منزل کی طرف روانہ ہونے سے پہلے وہاں لنگر انداز تھا۔
اس بیڑے میں ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ سمیت کئی نمایاں شخصیات شامل ہیں۔
اسرائیل نے پیر کو کہا تھا کہ وہ ان کشتیوں کو غزہ پہنچنے کی اجازت نہیں دے گا۔
مزید پڑھیں: امریکا نے غزہ جنگ بندی قرارداد ویٹو کر دی، پاکستان اور حماس کا شدید ردعمل
جون اور جولائی میں بھی اسرائیل نے کارکنان کی جانب سے غزہ پہنچنے کی 2 کوششیں ناکام بنا دی تھیں۔
غزہ پر اسرائیلی جنگ کے باعث اسرائیل عالمی دباؤ کا شکار ہے، جہاں انسانی بحران شدید تر ہو گیا ہے۔
گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ ایک ادارے نے غزہ کے بعض حصوں میں قحط کی باضابطہ تصدیق کی تھی، جبکہ 16 ستمبر کو اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں نے اسرائیل پر ’نسل کشی‘ کا الزام عائد کیا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل اقوام متحدہ انسانی حقوق ڈرونز غزہ فلوٹیلا قحط گریٹا تھنبرگ مواصلاتی نظام نسل کشی یونان
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل اقوام متحدہ فلوٹیلا گریٹا تھنبرگ مواصلاتی نظام یونان کے لیے
پڑھیں:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں بلکہ اسرائیل کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار بھی کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو خاصی کشیدہ رہی جس میں ٹرمپ نے لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور بیروت میں ممکنہ حملوں کے منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
امریکی صدر نے نیتن یاہو کو باور کرایا کہ بیروت پر حملہ خطے میں حالات کو مزید خراب کر سکتا ہے، اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات کو بھی پیچیدگیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔
یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات سے دستبرداری کا عندیہ دیا ہے۔ ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے مطابق امریکی صدر کو خدشہ ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلا تو خطے میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کا جواب دینا اسرائیل کا حق ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ فوجی ردعمل ضرورت سے زیادہ ہے اور اس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور تباہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
مزید پڑھیے: امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات تنازع کا شکار، فنکاروں کی علیحدگی پر صدر ٹرمپ برہم
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے خاص طور پر ان کارروائیوں پر اعتراض کیا جن میں حزب اللہ کے کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے رہائشی عمارتوں پر وسیع بمباری کی جاتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس طرزِ عمل سے اسرائیل کے خلاف عالمی تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔
حکام کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ بیروت پر حملے کی منظوری اسرائیل کو مزید عالمی تنہائی کی طرف دھکیل سکتی ہے اور اتحادی ممالک میں بھی تشویش پیدا کر سکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سخت مؤقف کے بعد اسرائیل نے بیروت میں بعض اہداف پر مجوزہ حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا۔ بعد ازاں ایک اسرائیلی عہدیدار نے بھی اشارہ دیا کہ فی الحال بیروت پر حملے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں تاہم جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ٹرمپ سے گفتگو کے بعد جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے حملے جاری رہے تو بیروت میں اہداف کو نشانہ بنانے کا آپشن بدستور موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے خلاف خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔
مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا طبی معائنہ: کام کے لیے ِفٹ قرار، صحت بہترین، وزن کم کرنے کا مشورہ
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران سمیت کئی علاقائی معاملات پر قریبی رابطے میں رہے ہیں تاہم لبنان کے معاملے پر حالیہ اختلافات دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتے ہوئے مؤقف کے فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کی تشویش کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ہیں جنہیں امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھتی ہے۔
ٹیلیفونک گفتگو کے کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں تاہم امریکی حکام کا ماننا ہے کہ لبنان کی صورتحال ان مذاکرات کے مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکا کے لیے ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے جہاں ایک جانب واشنگٹن اسرائیل کی سلامتی کی حمایت جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب وہ خطے میں وسیع جنگ کے خدشات کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: نیتن یاہو کی برسوں پر محیط ایران پالیسی کو بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ
جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں آنے والے ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور علاقائی سفارت کاری کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نیتن یاہو پر برہم لبنان پر اسرائیل کے حملے لبنان جنگ