اوٹاوا (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 ستمبر2025ء) کینیڈا میں ایک تحقیقاتی رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹک ٹاک‘‘نے بڑی تعداد میں کینیڈین بچوں کا حساس ذاتی ڈیٹا اکٹھا کیا اور اسے آن لائن مارکیٹنگ اور کانٹینٹ ٹارگٹنگ کے لیے استعمال کیا تاہم ٹک ٹاک نے کینیڈین بچوں کو اپنے پلیٹ فارم سے دور رکھنے اور پرائیویسی کے تحفظ کے اقدامات کو بہتر بنانے پر اتفاق کیا ہے ۔

رائٹرز کے مطابق کینیڈا کے پرائیویسی کمشنر فلیپ ڈوفرین اور صوبوں کیوبیک، برٹش کولمبیا اور البرٹا کے پرائیویسی حکام کی مشترکہ تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ہر سال لاکھوں کینیڈین بچے ٹک ٹاک استعمال کرتے ہیں حالانکہ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ پلیٹ فارم 13 سال سے کم عمر افراد کے لیے نہیں ہے۔

(جاری ہے)

تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا کہ کمپنی کی جانب سے بچوں کو روکنے اور ان کی ذاتی معلومات کے تحفظ کی کوششیں ناکافی ہیں۔

تحقیقات میں مزید بتایا گیا کہ ٹک ٹاک نے بڑی تعداد میں بچوں کا حساس ذاتی ڈیٹا اکٹھا کیا اور اسے آن لائن مارکیٹنگ اور مواد کی ہدف بندی کے لیے استعمال کیا۔ڈوفرین نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ٹک ٹاک اپنے یوزرز، جن میں بچے بھی شامل ہیں، کے بارے میں وسیع معلومات اکٹھی کرتا ہے۔ یہ ڈیٹا مواد اور اشتہارات کو ہدف بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو خاص طور پر نوجوانوں کے لیے نقصان دہ اثرات ڈال سکتا ہے۔

تحقیقات کے ردعمل میں ٹک تاک نے عمر کی تصدیق کے سخت طریقے متعارف کرانے اور یہ یقینی بنانے پر اتفاق کیا کہ کم عمر افراد یہ پلیٹ فارم استعمال نہ کر سکیں۔ مزید یہ کہ کمپنی صارفین خاص طور پر کم عمر یوزرز کو یہ بہتر طور پر سمجھانے کے لیے اقدامات کرے گی کہ ان کا ڈیٹا کس طرح استعمال ہو سکتا ہے۔پرائیویسی کمشنرز کے مطابق کمپنی نے تحقیقات کے دوران کئی تبدیلیاں بھی کیں۔ٹک ٹاک کے ترجمان نے کہا کہ کمپنی اس بات پر خوش ہے کہ کمشنرز نے اس کے کئی اقدامات کو تسلیم کیا ہے تاکہ پلیٹ فارم کو مزید محفوظ بنایا جا سکے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ اگرچہ ہم کچھ نتائج سے متفق نہیں تاہم ہم شفافیت اور پرائیویسی کے مضبوط طریقوں پر قائم ہیں۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کے لیے استعمال پلیٹ فارم کہ کمپنی ٹک ٹاک

پڑھیں:

پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع

لاہور:   پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کردی گئی۔محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق صوبہ بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اُڑانے پر مکمل پابندی برقرار ہے، دفعہ 144 کے تحت آؤٹ ڈور ڈرون اڑانے پر عائد پابندی میں 30 روز کی توسیع کر دی گئی ہے۔حکومت پنجاب نے یہ فیصلہ سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کیا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہالز اور مارکیز کے اندر تقریبات کے دوران چھوٹے ڈرون کے محدود استعمال کی اجازت ہے، جبکہ اندرونی تقریبات میں ڈرون کے محفوظ استعمال کی ذمہ داری منتظمین پر عائد ہوگی۔حکومتی ہدایت کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلیجنس ایجنسیاں اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی اور وہ اپنے فرائض کے مطابق ڈرون سمیت دیگر ٹیکنالوجی استعمال کر سکیں گی۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی