امریکی ٹیرف سے انڈیا کو کتنا نقصان پہنچا؟ ششی تھرور نے بتا دیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
بھارتی سیاستدان ششی تھرور نے کہا ہے کہ بھارت پر امریکی ٹیرف کی وجہ سے شدید معاشی نقصانات اٹھانا پڑ رہا ہے۔
ایک انٹرویو میں انہوں نے انکشاف کیا کہ انڈیا پر امریکی ٹیرف عائد ہونے کے بعد کوئمبیٹور میں کئی کارخانے بند ہوئے، اسی طرح سورت میں ایک لاکھ 35 ہزار ورکرز کو فارغ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: ’یہ پہلگام واقعے کا جشن منا رہے ہیں‘، ششی تھرور کے گانا گانے پر بھارتی صارفین کی تنقید
ششی تھرور کا کہنا تھا کہ ویشاکاپر جو امریکا کو بڑے پیمانے پر سمندری خوراک ایکسپورٹ کرتا ہے، وہاں بھی بھاری ٹیرف عائد ہونے کے بعد صورتحال گھمبیر ہے اور وہ امریکا ایکسپورٹ کرنے سے قاصر ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی خبر تشویش ناک تھی اور اس کا اثر وزیر اعظم نریندر مودی کی اپنی ریاست پر بھی ہوا۔
یہ بھی پڑھیے: امریکی ٹیرف سے بھارتی برآمدات کو دھچکا، نئی دہلی کا ریلیف پیکج کا اعلان
واضح رہے کہ امریکا نے گزشتہ ماہ بھارتی مصنوعات پر اضافی ڈیوٹی عائد کی تھی، جس میں روسی تیل کی خریداری کے تناظر میں 25 فیصد تادیبی ٹیرف بھی شامل تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی ٹیرف ششی تھرور
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔