پیپلز پارٹی اور میئر کراچی کوئی کام سیدھے طریقے سے کردیں تو ہزاروں ڈالر انعام رکھنا چاہیئے، فاروق ستار
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ سندھ حکومت ریڈ لائن کے منصوبے میں ابھی پھنسی ہوئی ہے، کتنے منصوبے ہیں جو پیپلز پارٹی نے مکمل نہیں کیے، میں گنوا سکتا ہوں، پیپلز پارٹی سے عوامی منصوبے میں ریلیف کی توقع نہ کی جائے۔ اسلام ٹائمز۔ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی اور میئر کراچی کوئی کام سیدھے طریقے سے کردیں تو ہزاروں ڈالر انعام رکھنا چاہیئے۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ گرین لائن کا منصوبہ چند ماہ میں مکمل ہونا تھا، 18 ستمبر کو گرین لائن منصوبے پر کام روک دیا گیا۔ فاروق ستار کا کہنا تھا کہ 2017ء میں گرین لائن کی این او سی لی گئی تھی، اس کام کو زبردستی روکا گیا تھا کیونکہ اس کا سہرا ایم کیو ایم کو ملتا، جو کراچی کے میئر ہیں ان سے یہ بات ہضم نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت ریڈ لائن کے منصوبے میں ابھی پھنسی ہوئی ہے، کتنے منصوبے ہیں جو پیپلز پارٹی نے مکمل نہیں کیے، میں گنوا سکتا ہوں، پیپلز پارٹی سے عوامی منصوبے میں ریلیف کی توقع نہ کی جائے۔ فاروق ستار نے کہا کہ 2008ء سے اب تک یہ کے فور منصوبے پر بیٹھے رہے مگر کچھ نہیں ہوسکا، کے فور منصوبہ مکمل ہونے جارہا ہے یہ صرف ایم کیو ایم کی وجہ سے ہو رہا ہے، ایک مسئلہ ہے کہ پانی تو آ جائے گا مگر اس کی تقسیم کا کیا ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی ایم کیو ایم فاروق ستار نے کہا کہ ایم کی
پڑھیں:
نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللّٰہ نے کہا ہے کہ نواز شریف گلگت بلتستان کے الیکشن کمیشن سے این او سی لیکر وہاں گئے تھے، کوئی حکومتی وزیر گلگت بلتستان نہیں گیا نہ کسی نے وہاں مہم چلائی۔
پروگرام آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ میں بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللّٰہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین گوہر خان گلگت بلتستان میں جلسے کر رہے ہیں، میٹنگز کر رہے ہیں انہیں تو کوئی نہیں روک رہا۔
رانا ثنا نے کہا کہ اگر بیرسٹر گوہر خان اجازت لیکر جا سکتے ہیں تو سلمان اکرام راجا کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کا کوئی اُمیدوار مقابلے میں ہے ہی نہیں، وہاں صاف، شفاف اور کریڈیبل انتخابات ہونگے۔