ممتاز چینی جامعہ سے منتخب شدہ چھ اسکالروں میں پاکستانی بھی شامل
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
پاکستانی طالبعلم کو چین کی اعلیٰ ترین جامعہ کے سخت معیارات کو پورا کرتے ہوئے پی ایچ ڈی اور پوسٹ ڈاکٹریٹ کے لیے 1200 امیدواروں میں سے منتخب کرلیا گیا ہے۔
احمد یار سکھیرا 64 ممالک کے 1200 امیدواروں میں منتخب چھ اسکالروں میں شامل ہیں جو شینزن میں واقع، ہاربن انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے اپنی ڈاکٹریٹ مکمل کریں گے۔ انہیں چینی حکومت کی جانب سے "غیرمعمولی ٹیلنٹ اسکالرشپ" کا حصہ بننے پر ایک بیج بھی دیا گیا ہے۔
ایکسپریس نیوز سے بات کرتے ہوئے احمد یار نے بتایا کہ ہاربِن انسٹی ٹیوٹ سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں عالمی شہرت رکھتا ہے۔ سخت معیارات کے تحت بہت ہی کم طالبعلم یہاں پی ایچ ڈی اسکالرشپ کے لیے منتخب ہوتے ہیں اور اس سال میں واحد پاکستانی ہوں، جسے یہ اعزاز حاصل ہوا ہے۔
"میں نینوٹیکنالوجی اور نینومیڈیسن میں تحقیق اور تخلیق کرنا چاہتا ہوں کیونکہ یہ ایک ابھرتا ہوا اور شاندار طبی شعبہ ہے۔ اس میں نینوذرات، نینوبوٹس اور دیگر اجزا بدن کے اندر جاکر درست ترین انداز میں کام کرتے ہیں اور یوں شفا کے مواقع بڑھ جاتے ہیں،" احمد یار سکھیرا نے بتایا۔
واضح رہے کہ احمد یار سکھیرا نے مصنوعی ذہانت(اے آئی) کے تحت کام کرنے والا " ٹیمپرامنٹ اینڈ بلڈ پریشر انڈیکشین بوٹ" بنایا ہے جسے 'طبیب' کا نام دیا ہے۔ یہ اپنی نوعیت کی واحد طبی ایجاد ہے جو بلڈ بلڈ پریشر جیسی 'خاموش قاتل' کیفیت کو کئی لحاظ سے نوٹ کرتے ہوئے اس کی وجہ بننے والے دیگر عوامل سے خبردار کرتا ہے۔ طبیب نفسیاتی (سائیکولوجیکل) فعلیاتی (فزیالوجیکل) اور جسمانی وزن و ساخت (اینتھروپومیٹرک) جیسی کیفیات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بتاتا ہے کہ بلڈ پریشر میں اس کا کتنا کردار ہے۔
احمد یار سکھیرا نے ہمدرد یونیورسٹی آف ایسٹرن میڈیسن سے گریجویشن اور اس کے بعد ایم فل کیا ہے۔ طبیب ان کے ایم فل تھیسس کا حصہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: احمد یار سکھیرا
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔