ترکیہ امریکی کمپنی سے گیس خریدے گا، 20 سالہ معاہدہ طے پاگیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
ترکی نے امریکی مائع قدرتی گیس (LNG) خریدنے کے لیے سوئس ٹریڈنگ کمپنی مرکیوریا کے ساتھ 20 سالہ معاہدہ کر لیا ہے۔ یہ اعلان ترک وزیر توانائی الپارسلان بائرقدار نے بدھ کو کیا۔ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یورپ پر روسی توانائی کی خریداری روکنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔
یہ ڈیل ترک صدر رجب طیب ایردوان اور ٹرمپ کی جمعرات کو ہونے والی ملاقات سے قبل طے پائی ہے۔ روس اس وقت ترکی کا سب سے بڑا گیس سپلائر ہے، تاہم انقرہ نے حالیہ برسوں میں توانائی کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ رواں سال روس کے ساتھ گیس درآمدی معاہدوں کی مد میں کم از کم 16 ارب مکعب میٹر کے سودے ختم ہو رہے ہیں، جن کی تجدید تاحال نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: ترکیہ کا اسرائیل کے ساتھ توانائی کے معاہدے پر بات چیت روکنے کا اعلان
ترک سرکاری کمپنی بوتاش (BOTAS) نے یہ معاہدہ نیویارک میں ایردوان کے دورے کے دوران کیا۔ معاہدے کے تحت 2026 سے ترکی کو سالانہ 4 ارب مکعب میٹر LNG فراہم کی جائے گی، جبکہ مجموعی طور پر تقریباً 70 ارب مکعب میٹر کی فراہمی کا امکان ہے۔ گیس کی ترسیل امریکی لوڈنگ ٹرمینلز سے ہوگی، جسے ترکی، یورپ اور شمالی افریقہ کے ریگیسیفیکیشن پلانٹس پر اتارا جائے گا۔
وزیر توانائی بائرقدار نے کہا کہ یہ معاہدہ امریکہ کے ساتھ 100 ارب ڈالر کے تجارتی ہدف میں نمایاں کردار ادا کرے گا، اس کے ساتھ ہی توانائی کے شعبے میں سپلائی سکیورٹی اور تنوع بڑھے گا۔
یہ بھی پڑھیں: استنبول کے آسمان پر روشنی کا پراسرار ہیولیٰ، ویڈیو وائرل
ترکی کی وزارت توانائی کے مطابق، بوتاش نے آسٹریلیا کی سب سے بڑی گیس پروڈیوسر کمپنی ووڈسائیڈ انرجی کے ساتھ بھی ایک طویل المدتی ابتدائی معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت 2030 سے شروع ہونے والے نو سالہ دورانیے میں 5.
اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ سال ترکی نے 52 ارب مکعب میٹر گیس درآمد کی، جس میں سے 40 فیصد روس سے آئی۔ امریکہ پانچواں بڑا سپلائر تھا، جو الجزائر سے معمولی پیچھے رہا، اور اس نے ترکی کو 10 فیصد گیس فراہم کی۔
یہ بھی پڑھیں: ترکیہ: ازمیر میں جنگلاتی آگ بے قابو، 50 ہزار سے زائد افراد کا انخلا
توانائی کے یہ نئے معاہدے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ترکی واشنگٹن کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ پیر کو انقرہ نے 2018 میں عائد کیے گئے جوابی ٹیرف ختم کر دیے تھے، جو امریکی گاڑیوں اور پھلوں سمیت کئی درآمدی اشیا پر لگائے گئے تھے۔ اس فیصلے کو ایردوان اور ٹرمپ کی ملاقات سے قبل نیک شگون قرار دیا جا رہا ہے۔
بوتاش ترکی میں تیل و گیس کے بنیادی ڈھانچے اور گیس تجارت کی ذمہ دار کمپنی ہے، جبکہ مرکیوریا دنیا کی سب سے بڑی توانائی و کموڈٹی گروپس میں شمار ہوتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news امریکا ایل این جی ترکیہ توانائی روس سوئس ٹریڈنگ کمپنی مرکیوریا گیس معاہدہ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا ایل این جی ترکیہ توانائی سوئس ٹریڈنگ کمپنی مرکیوریا گیس معاہدہ ارب مکعب میٹر توانائی کے کے ساتھ
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔