پلاسٹک سرجری کی وجہ سے نہیں قدرتی خوبصورت ہوں، علیزے شاہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
پاکستان شوبز کی اداکارہ و ماڈل علیزے شاہ نے سوشل میڈیا پر پلاسٹک سرجری سے متعلق الزامات اور تنقید پر اظہار برہمی کرتے ہوئے ناقدین کو واضح پیغام دیا ہے۔
انسٹاگرام پر جاری پیغام میں علیزے شاہ نے کہا کہ اُنہیں بار بار کاسمیٹک سرجریز کے طعنے دینا مضحکہ خیز ہے، خاص طور پر اُن لوگوں کی جانب سے جو بظاہر تنقید کرتے ہیں لیکن اُنہی افراد کے پیغامات میں اُن سے وزن کم کرنے اور چہرہ سلم دکھنے کے راز پوچھے جاتے ہیں۔
اداکارہ نے کہا کہ اگر کوئی اُن جیسا نظر نہیں آ سکتا یا یہ سب حاصل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا تو یہ اُن کی اپنی کمی ہے، کسی اور کا قصور نہیں اس لئے ان پر بے بنیاد الزامات عائد کرنا بند کریں۔
View this post on InstagramA post shared by DIVA Magazine Pakistan (@divamagazinepakistan)
علیزے شاہ کا کہنا تھا کہ خواتین کو سرجریز کے طعنے دینا افسوسناک ہے، اور عام طور پر وہی لوگ دوسروں پر انگلی اٹھاتے ہیں جو خود اپنی ذات سے غیر مطمئن ہوتے ہیں۔ اداکارہ نے واضح کیا کہ انہوں نے کوئی سرجری نہیں کروائی وہ قدرتی خوبصورت ہیں۔
واضح رہے کہ چند روز قبل علیزے شاہ نے انسٹاگرام پر "گیٹ ریڈی ود می" ویڈیو شیئر کی تھی جس پر اُنہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ کچھ صارفین نے اُنہیں مبینہ سرجریز کی وجہ سے کورین جیسا دکھنے پر طنز کا نشانہ بنایا، جبکہ مداحوں نے اُن کی تعریف بھی کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: علیزے شاہ
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔