افغانستان کی طالبان حکومت نے ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس بند کردی
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
افغانستان کی طالبان حکومت نے ملک بھر میں انٹرنیٹ سروسز بند کردیں۔
سائبر سکیورٹی اور انٹرنیٹ گورننس پر نظر رکھنے والی تنظیم نیٹ بلاکس نے کہا ہے کہ ’ پورے ملک میں ٹیلی کمیونی کیشن کا بلیک آؤٹ نافذ ہے‘۔
تنظیم کے مطابق قومی سطح پر انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی عام حالات کے مقابلے میں صرف 14 فیصد رہ گئی ہے اور یہ صورتحال جان بوجھ کر انٹرنیٹ سروسز کو منقطع کرنے کے مترادف لگتی ہے۔
فرانسیسی خبررساں ادارے کے مطابق اس کا کابل بیورو مقامی وقت کے مطابق شام 6 بج کر 15 منٹ کے قریب مواصلاتی رابطے سے محروم ہوگیا، جس میں موبائل فون سروس بھی شامل تھی۔
رپورٹ کے مطابق طالبان حکام نے رواں ماہ کے اوائل میں انٹرنیٹ پر کریک ڈاؤن شروع کیا تھا اور کئی صوبوں میں فائبر آپٹک کنکشن منقطع کر دیے تھے۔ طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے حکم پر شمالی صوبے بلخ میں بھی فائبر آپٹک انٹرنیٹ مکمل طور پر بند کر دیا گیا تھا۔
صوبائی ترجمان عطا اللہ زید نے 16 ستمبر کو سوشل میڈیا پر بتایا تھا کہ یہ اقدام برائی کی روک تھام کے لیے اٹھایا گیا ہے اور ملک بھر میں متبادل انتظامات کیے جائیں گے تاکہ بنیادی ضروریات پوری کی جاسکیں۔
افغانستان کے مقامی ٹی وی چینل نے بھی سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ پیر کی دوپہر سے ملک بھر میں فائبر آپٹک انٹرنیٹ بند کردیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ملک بھر میں کے مطابق
پڑھیں:
سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
پشاور: سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کے پنشنرز کی نیٹ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا، جبکہ اس حوالے سے محکمہ خزانہ نے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ اضافہ 30 جون 2026 تک وصول کی جانے والی نیٹ پنشن کی بنیاد پر دیا جائے گا۔ حکومت کے اس اقدام سے لاکھوں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو مہنگائی کے موجودہ دور میں مالی سہارا ملنے کی امید ہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین بھی اس 7 فیصد اضافے سے مستفید ہوں گے۔ اسی طرح فیملی پنشن حاصل کرنے والے افراد اور کمپیشنٹ الاؤنس لینے والے مستحقین پر بھی یہ اضافہ یکساں طور پر لاگو ہوگا۔
محکمہ خزانہ کے مطابق بیرون ملک مقیم وہ پنشنرز بھی، جو خیبرپختونخوا حکومت کی پنشن کے اہل ہیں، مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ اضافہ پہلے سے دی جانے والی کسی بھی خصوصی اضافی پنشن پر لاگو نہیں ہوگا، بلکہ صرف بنیادی نیٹ پنشن کی بنیاد پر ادا کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کا یہ فیصلہ بڑھتی مہنگائی کے پیش نظر ریٹائرڈ ملازمین کے لیے اہم ریلیف ثابت ہوگا اور ان کے ماہانہ اخراجات پورے کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔